فضائل القرآن — Page 392
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔392 بنی نوع انسان کے علاوہ دوسری مخلوق شریعت پر ایمان لانے کی پابند نہیں پھر اس سے بڑھ کر ایک اور دلیل ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ احزاب میں بطور قاعدہ کلیہ کے فرماتا ہے۔اِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَاشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا ٣٠ یعنی ہم نے اپنی شریعت اور کلام کو آسمانوں اور زمین کی مخلوق کے سامنے پیش کیا اور کہا کوئی ہے جو اسے مانے اور اس پر عمل کرے؟ اس پر تمام آسمانی مخلوق نے یک زبان ہو کر کہا کہ ہم یہ بار امانت اُٹھانے کے ہرگز اہل نہیں۔پھر ہم نے زمینوں کے سامنے یہ معاملہ پیش کیا اور کہا۔لو! یہ بوجھ اُٹھاتے ہو؟ انہوں نے بھی کہا ہرگز نہیں۔پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے بھی انکار کیا۔حالانکہ لوگ عام طور پر یہ کہا کرتے ہیں کہ جن پہاڑوں پر رہتے ہیں۔فابین آن تحملنها سارے ڈر گئے اور کسی نے بھی اس ذمہ داری کو اُٹھانے کی جرات نہ کی فَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ۔صرف ایک انسان آگے بڑھا اور اس نے کہا۔مجھے شریعت دیجئے میں اس پر عمل کر کے دکھا دونگا۔فرماتا ہے اِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا۔انسان نے اپنے نفس پر بڑا ظلم کیا کیونکہ وہ ہمارے عشق میں سرشار اور عواقب سے بے پروا تھا۔اُس نے یہ نہیں دیکھا کہ بوجھ کتنا بڑا ہے بلکہ شوق سے اُسے اُٹھانے کے لئے آگے نکل آیا۔اب دیکھو یہاں اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے کہ شریعت کو اُٹھانے والا صرف انسان ہے اور کوئی شریعت کا مکلف نہیں۔پھر جب کہ انسان کو ہی خدا نے شریعت دی تو سوال یہ ہے کہ اگر جن غیر از انسان ہیں تو وہ کہاں سے نکل آئے اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پر اپنے ایمان کا کیوں اظہار کیا؟ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ وہ غیر از انسان تھے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ٹھہرتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ انسان کے سوا سب مخلوق نے اس شریعت پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا اور جب کہ قرآن سے یہ ثابت ہے کہ جن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تو صاف طور پر معلوم ہو گیا کہ یہاں جن سے مراد جن الانس ہی ہیں۔ایسی مخلوق مراد نہیں جو انسانوں کے علاوہ ہو اور نہ میں ایسے جنوں کا قائل ہوں جو انسانوں سے آکر چمٹ جاتے ہیں۔میرے سامنے ہی اس وقت ایک دوست بیٹھے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام