فضائل القرآن — Page 391
فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ 391 مؤمن جنوں نے رسول کریم صلی ی ی یتیم کی مدد کیوں نہ کی؟ اب ایک اور بات سنو۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِنَّا اَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا ومُبَشِّرًا وَنَذِيرًا - لِتُؤْمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ، ۲۹ یعنی اے رسول ! ہم نے تجھے اپنی صفات کے لئے گواہ اور مومنوں کے لئے مبشر اور کافروں کے لئے نذیر بنا کر بھیجا ہے تا کہ تم اس کے ذریعہ اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کی عزت بجا لا ؤ۔اب جب کہ جن بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تھے تو کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ ان جنوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کبھی مدد کی ہو۔ایک معمولی ملا کے لئے تو جیسا کہ لوگوں میں مشہور ہے وہ انگور کے خوشے لے آتے ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وہ روٹی کا ایک ٹکڑا بھی نہ لائے اور آپ کو بسا اوقات کئی کئی وقت کے فاقے برداشت کرنے پڑے۔ایک دفعہ آپ کے چہرہ پر ضعف کے آثار دیکھ کر صحابہ نے سمجھا کہ آپ کو بھوک لگی ہوئی ہے۔چنانچہ ایک صحابی نے بکری ذبح کی اور آپ کو اور بعض اور صحابہ کوکھانا کھلایا مگر ایسے مواقع میں سے کسی ایک موقع پر بھی جنوں نے مدد نہیں کی۔میں سمجھتا ہوں وہ بڑے ہی شقی القلب جن تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن پر وہ ایمان لائے تھے ان کو تو انہوں نے ایک روٹی بھی نہ کھلائی اور آج کے مولویوں کو سیب اور انگور کھلاتے ہیں پھر وہ مومن کس طرح ہو گئے؟ وہ تو پکے کافر تھے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ خیال ہی غلط ہے کہ جن کوئی ایسی مخلوق ہے جو انسانوں سے نرالی ہے۔وہ جن جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے وہ بھی انسان ہی تھے اور جس طرح اور لوگوں نے آپ کی مدد کی وہ بھی مدد کرتے رہے۔اگر کوئی نرالی مخلوق مانی جائے تو پھر اس سوال کا حل کرنا اُن لوگوں کے ذمہ ہوگا جو جنات کے قائل ہیں کہ وجہ کیا ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی مددنہ کی حالانکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے اور قرآن میں انہیں یہ حکم تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کریں۔