فضائل القرآن — Page 26
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔۔والے کی غلطی یاد کرنے والے درست کرا سکتے تھے۔اور یاد کرنے والوں کی غلطی لکھنے والا بتا سکتا تھا۔فرض کر و لکھنے والے نے لفظ غلط لکھ لیا مگر یاد کرنے والے اس غلطی کے ساتھ کیونکر متفق ہو سکتے تھے، اس طرح فورا غلطی پکڑی جاسکتی تھی۔ششم: یہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت عثمان کے وقت قرآن کے پڑھنے میں بہت اختلاف ہو گیا تھا۔اس کا جواب یہ ہے کہ کسی صحیح روایت سے یہ پتہ نہیں لگتا کہ حضرت عثمان کے وقت قرآن کے متعلق اختلاف ہو گیا تھا۔بلکہ صاف لکھا ہے کہ قرآت میں اختلاف تھا۔اور حدیثوں سے ثابت ہے کہ سات قرآتوں پر رسول کریم صلی ہم نے قرآن پڑھا۔چونکہ بعض قوموں کے لئے بعض الفاظ کا ادا کرنا مشکل تھا۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی بتلایا جاتا کہ ان الفاظ کو اس طرح بھی پڑھ سکتے ہیں۔اس بارہ میں روایات میں آتا ہے کہ حضرت علی نے بیان کیا کہ حضرت عثمان نے انہیں بلا کر کہا کہ مختلف قبائل کے لوگ کہتے ہیں کہ ہماری قرآت صحیح ہے اور اس پر جھگڑا پیدا ہو رہا ہے۔اس لئے اس کا فیصلہ ہونا چاہئے۔حضرت علی نے کہا آپ ہی فیصلہ کر دیں۔انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ مسلمان ہو کر اب سب ایک ہو گئے ہیں اس لئے ایک ہی قرآت ہونی چاہئے اور وہ قریش والی قرآت ہے۔ہفتم: اگر قراتوں میں اختلاف نہ تھا تو حضرت ابوبکر کے وقت کے قرآن جلائے کیوں گئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی صریح طور پر غلط ہے۔وہاں تو یہ لکھا ہے کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ کا قرآن تھا۔وہ ان سے منگوایا گیا اور کہا گیا کہ نقل کرنے کے بعد واپس کر دیں۔چنانچہ واپس کر دیا گیا۔اور جلائے مختلف قراتوں والے قرآن گئے تھے تا کہ قرآتوں کا اختلاف نہ رہے۔ہشتم: یہ جو کہا گیا ہے کہ قرآن کی اصلیت پر صرف زید کی گواہی ہے، یہ بھی غلط ہے۔حضرت ابوبکر نے زید کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو رکھا اور مسجد کے دروازہ پر بٹھا دیا۔اور حکم دیا کہ کوئی تحریر ان کے پاس ایسی نہ لائی جائے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لکھائی ہوئی نہ ہو اور جس کے ساتھ دو گواہ نہ ہوں جو یہ کہیں کہ ہمارے سامنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کھوائی تھی۔26 26