فضائل القرآن — Page 25
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔۔25 25 تھا۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ درست نہیں ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یقینا سارا قرآن لکھا گیا۔جیسا کہ حضرت عثمان کی روایت ہے کہ جب کوئی حصہ نازل ہوتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لکھنے والوں کو بلاتے اور فرماتے اسے فلاں جگہ داخل کرو۔جب یہ تاریخی ثبوت موجود ہے تو پھر یہ کہنا کہ قرآن رسول کریم سلا می ایام کے وقت پورا نہ لکھا گیا تھا بے وقوفی ہے۔رہا یہ سوال کہ پھر حضرت ابوبکر کے زمانہ میں کیوں لکھا گیا اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن اس طرح ایک جلد میں نہ تھا جس طرح اب ہے۔حضرت عمر کو یہ خیال پیدا ہوا کہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ قرآن محفوظ نہیں۔اس لئے انہوں نے اس بارے میں حضرت ابو بکر سے جو الفاظ کہے وہ یہ تھے کہ اِنّى أَرى أَنْ تَأْمُرَ جَمْعَ الْقُرْآنِ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ قرآن کو ایک کتاب کی شکل میں جمع کرنے کا حکم دیں۔یہ نہیں کہا کہ آپ اس کی کتابت کرائیں۔پھر حضرت ابوبکر نے زید کو بلا کر کہا کہ قرآن جمع کرو۔چنانچہ فرما یالا جمعہ اسے ایک جگہ جمع کر دو۔یہ نہیں کہا کہ اسے لکھ لو۔غرض الفاظ خود بتارہے ہیں کہ اس وقت قرآن کے اوراق کو ایک جلد میں اکٹھا کرنے کا سوال تھا۔لکھنے کا سوال نہ تھا۔چہارم : یہ اعتراض تھا کہ قرآن کریم میں بعض لوگوں کے متعلق الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنِ عضین آیا ہے۔سو یا د رکھنا چاہیئے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ لوگ قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے تھے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں پر ویسا ہی عذاب نازل کرے گا۔جیسا ان لوگوں پر کیا جو قرآن کے بعض حصوں پر عمل کرتے ہیں اور بعض پر نہیں کرتے۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں کافروں اور منافقوں کا ذکر ہے۔اور اگر یہی معنے کئے جائیں کہ قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے تھے تو یہ بھی ہمارے لئے مفید ہے۔کیونکہ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن اس وقت جمع تھا۔اس لئے دشمن اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے تھے۔مسلمانوں کے پاس قرآن محفوظ تھا مگر منافق اس کے ٹکڑے ٹکڑے رکھتے تھے۔پنجم : یہ جو کہا جاتا ہے کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان پڑھ تھے۔اس لئے کا تب جو چاہتے لکھ دیتے۔اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم مستی میں یہ تو نے پہلے سے ہی اس کا انتظام کر لیا تھا۔اور وہ یہ کہ جب وحی نازل ہوتی تو کاتب کو کہتے لکھ لو اور چار آدمیوں کو کہتے یاد کر لو۔اس طرح لکھنے