فضائل القرآن — Page 27
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔۔نم : ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر اختلاف نہیں تھا تو حضرت عثمان کے وقت دوبارہ تحقیق کی ضرورت کیوں پیش آئی۔اس کا جواب یہ ہے کہ قرآتوں کی تحقیق کرائی گئی تھی عبارتوں اور سورتوں کی تحقیق نہیں کروائی گئی۔27 دہم : اس طرح یہ جو کہا گیا ہے کہ اگر اختلاف نہ تھا تو ایک کے سوا باقی کا پیاں کیوں جلائی گئیں۔اس کا بھی وہی جواب ہے کہ مختلف قرآتوں والی کا پیاں جلائی گئی تھیں۔پس یہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت عثمان کے خلیفہ ہونے کے وقت بہت قرآن تھے مگر ان کے بعد ایک رہ گیا۔اس کا یہی مطلب ہے کہ انہوں نے مختلف قرآتوں کو اڑادیا اور پھر جن قوموں کی قرآتوں کو مٹایا گیا انہوں نے یہ اعتراض کیا۔پس نتیجہ یہ نکلا کہ موجودہ قرآن وہی ہے جو رسول کریم ملا نے یتیم کے زمانہ میں تھا۔اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔محکمات اور متشابہات اب میں متشابہات کے متعلق مختصر طور پر کچھ بیان کر دیتا ہوں۔اعتراض کیا جاتا ہے کہ قرآن میں محکمات بھی ہیں اور متشابہات بھی، پھر قرآن کا کیا اعتبار رہا۔اصل بات یہ ہے کہ قرآن کے متشابہات پر غور ہی نہیں کیا گیا۔سورۃ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ الَّذِى اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ مِنْهُ ايتٌ مُحَكَمْتُ هُنَّ أُمُّ الْكِتَبِ وَأَخَرُ مُتَشفت نا کہ وہ خدا ہی ہے جس نے اس قرآن کو اپنے رسول پر اُتارا۔اس میں کچھ تو محکمات ہیں جو ام الکتاب ہیں اور کچھ متشابہات ہیں۔اس کے متعلق لوگ کہتے ہیں۔ہمیں کیا معلوم کہ کونسی آیت محکم ہے اور کونسی متشابہ۔اس کے مقابلہ میں سورۃ ہود میں آتا ہے۔کتب احكمَتْ أَيْتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيمٍ خبیر کہ یہ کتاب وہ ہے جس کی ساری آیات محکمات ہیں۔اس سے بظاہر او پر کی بات غلط ہوگئی کہ قرآن کی بعض آیات متشابہ ہیں اور بعض محکم۔تیسری جگہ آتا ہے۔الله نَزِّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتبًا مُتَشَابِهًا مَنَانِي یعنی خدا ہی ہے جس نے بہتر سے بہتر بات یعنی وہ کتاب