فضائل القرآن — Page 24
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔۔مارگولیتھ کہتا ہے کہ پرانے زمانہ میں قصیدے تھے ہی نہیں یوں ہی بنا کر پہلے لوگوں کی طرف منسوب کر دیئے گئے ہیں۔گویا جس پہلو سے اسلام پر اعتراض کرنا چاہا وہی سامنے رکھ لیا۔اصل بات یہ ہے کہ عربوں کے ایسے حافظے ہوتے تھے کہ مشہور ہے ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ جس شاعر کو ایک لاکھ شعر یاد نہ ہوں وہ میرے پاس نہ آئے۔اس پر ایک شاعر آیا اور اس نے آکر کہا میں بادشاہ سے ملنے کے لئے آیا ہوں۔اسے بتایا گیا کہ بادشاہ سے ملنے کے لئے ایک لاکھ شعر یاد ہونے ضروری ہیں۔اس نے کہا بادشاہ سے جا کر کہہ دو وہ ایک لاکھ شعر اسلامی زمانہ کا سننا چاہتا ہے 24 یا زمانہ جاہلیت کا۔عورتوں کے سننا چاہتا ہے یا مردوں کے۔میں سب کے اشعار سنانے کے لئے تیار ہوں۔یہ سن کر بادشاہ فوراً باہر آ گیا۔اور آکر کہا کیا آپ فلاں شاعر ہیں۔اس نے کہا ہاں میں وہی ہوں۔بادشاہ نے کہا اسی لئے میں نے یہ اعلان کیا تھا کہ آپ میرے پاس آتے نہ تھے۔میں نے خیال کیا کہ شاید اس اعلان پر جوش کی وجہ سے آپ آجائیں۔پس یہ کہنا غلط ہے کہ عربوں کے حافظے اچھے نہ تھے۔رہی یہ بات کہ شعروں میں اختلاف ہے۔اس کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ وہ لوگ جو شعر یا درکھتے تھے وہ انہیں الہامی کتاب کے شعر سمجھ کر نہیں یاد کرتے تھے بلکہ ان کا مطلب اخذ کر لیتے تھے۔مگر قرآن کو تو خدا کا کلام سمجھ کر یاد کرتے تھے۔اس وجہ سے اس کا ایک لفظ بھی آگے پیچھے نہ کرتے تھے۔پھر شعر جو وہ یاد کرتے تھے وہ استادوں سے پڑھ کر یاد نہ کرتے تھے بلکہ جس سے سنتے یاد کر لیتے۔اور ہر شخص اس قابل نہیں ہوتا کہ صحیح الفاظ ہی یاد کرائے۔لیکن اسلامی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن لکھنے کے متعلق اور قرآن یاد کرنے کے متعلق خاص قواعد مقرر تھے اور قرآن یاد کرانے کے لئے چار آدمی مقرر تھے۔اور اس میں اتنی احتیاط کی جاتی تھی کہ ایک دفعہ نماز میں حضرت علی نے پڑھنے والے کو لقمہ دے دیا تو انہیں منع کیا گیا اور کہا گیا کہ آپ اس کام کے لئے مقرر نہیں۔غرض قرآن کریم کے بارہ میں اتنی احتیاط کی گئی تھی کہ چار آدمی اس کام کے لئے مقرر تھے حالانکہ قرآن جاننے والے ہزاروں تھے۔اس کے مقابلہ میں شاعروں کی طرف سے کون سے لوگ مقرر تھے جو شعر یاد کراتے تھے۔امراً القیس نے کسے مقرر کیا تھا کہ اس کے اشعار لوگوں کو یاد کرایا کرے۔مگر قرآن یاد کرانے کے متعلق تو استاد در استاد بات چلی آرہی ہے۔سوم : ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ رسول کریم ملی ایم کے زمانہ میں پورا قرآن نہ لکھا گیا 24