فضائل القرآن — Page 366
فصائل القرآن نمبر۔۔۔366 لوگوں کو جب کہا جاتا ہے کہ قرآن کہتا ہے نماز پڑھو تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نماز پڑھی جائے بلکہ یہ ہے کہ خدا سے محبت پیدا کی جائے۔اسی طرح جب قرآن کہتا ہے روزے رکھو تو وہ کہتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ بھوکے رہو بلکہ یہ مطلب ہے کہ حرام خوری نہ کرو۔اسی طرح جب حج کا ذکر آتا ہے تو وہ کہتے ہیں اس سے یہ مراد نہیں کہ خواہ مخواہ سے جاؤ بلکہ اس محکم کا مقصد یہ ہے کہ جہاں بھی قومی ضروریات اجتماع چاہتی ہوں وہاں انسان چلا جائے۔خواہ علیگڑھ چلا جائے یا کسی اور جگہ۔حتی کہ بعض نے تو اس حد تک استعارات کو بڑھایا ہے کہ میں نے ایک تفسیر دیکھی جس میں تمام قرآن کو استعارہ اور مجاز ہی قرار دیا گیا ہے۔اگر کسی جگہ موسیٰ کا نام آیا ہے تو اس کے کچھ اور ہی معنی لئے ہیں اور اگر آدم کا لفظ آیا ہے تو اس کے بھی کچھ اور معنی لئے گئے ہیں۔ایسا آدمی بالکل سو فسطائی بن جاتا ہے اور اس کی مثال اُس شخص کی سی ہو جاتی ہے جو بادشاہ کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ بادشاہ سلامت! ہر چیز وہم ہی وہم ہے۔بادشاہ نے اُسے نیچے صحن میں کھڑا کر کے مست ہاتھی چھوڑ دیا اور احتیاطاً ایک سیڑھی بھی لگا دی تا کہ وہ اس کے حملہ سے بیچ کر سیڑھی پر چڑھ جائے۔جس وقت ہاتھی نے حملہ کیا تو وہ بھاگا اور دوڑ کر سیڑھی پر چڑھنے لگا۔بادشاہ کہنے لگا کہاں جاتے ہو؟ ہاتھی واھی کوئی نہیں یہ تو وہم ہی وہم ہے۔وہ بھی کچھ کم چالاک نہ تھا کہنے لگا بادشاہ سلامت! کون بھاگ رہا ہے یہ بھی تو وہم ہی ہے۔تو بعض لوگ استعارہ کو اس حد تک لے جاتے ہیں کہ کوئی کلام بغیر استعارہ پر محمول کئے نہیں چھوڑتے۔ایسے لوگوں کے نزدیک خدا ایک طاقت کا نام ہے۔فرشتے اخلاق کا نام ہیں۔جنت اور دوزخ قومی ترقی اور تنزیل کے نام ہیں اور اُن کے نزدیک یہ سب عبادتیں نَعُوذُ ہاللہ لوگوں کو بہلانے کے لئے رکھی گئی ہیں۔عیسائیوں کی مذہبی کیفیت بعض قوموں میں ایک ہی وقت میں یہ دونوں باتیں پائی جاتی ہیں یعنی بعض باتوں کے متعلق تو وہ یہ کہتی ہیں کہ یہ استعارے ہیں اور بعض باتوں کے متعلق کہتی ہیں کہ یہ استعارے نہیں اور بعض ایسی قومیں ہیں جن کا اگر استعارہ میں فائدہ ہو تو استعارہ مراد لے لیتی ہیں اور حقیقت میں فائدہ ہو تو حقیقت مراد لے لیتی ہیں۔عیسائی اسی قسم کے شتر مرغ ہیں انہیں جس چیز میں فائدہ نظر آتا ہے وہ