فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 434

فضائل القرآن — Page 367

فصائل القرآن نمبر۔۔۔367 اختیار کر لیتے ہیں۔حضرت مسیح نے اپنے متعلق کہا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔یہ ایک استعارہ تھا مگر عیسائیوں نے اسے حقیقت قرار دے کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ حضرت عیسی سچ مچ خدا کے بیٹے تھے مگر جب مسیح نے روزے رکھنے اور عبادت کرنے کا حکم دیا تو کہہ دیا کہ یہ استعارہ ہے۔گویا جس میں اپنا فائدہ دیکھا وہی روش خود اختیار کر لی۔جیسے کہتے ہیں کوئی پور بن تھی جس کا خاوند مر گیا۔پور بن نے رونا پیٹنا شروع کر دیا اور اپنی بے کسی ظاہر کرنے کے لئے کہنے لگی۔میرے خاوند نے فلاں سے اتنے روپئے وصول کرنے تھے وہ اب کون وصول کرے گا ؟ ایک پور بیہ جو پاس ہی بیٹھا ہوا تھا کہنے لگا۔ماری ہم ری ہم وہ کہنے لگی فلاں جگہ اتنی زمین اور جائیداد ہے اب اُس پر کون قبضہ کرے گا؟ تو وہ پھر بولا ”اری ہم ری ہم پھر وہ کہنے لگی اُس نے فلاں کا سوروپیہ دینا تھا وہ کون دے گا؟ تو وہ کہنے لگا۔ارے بھئی! میں ہی بولتا جاؤں یا برادری میں سے کوئی اور بھی بولے گا۔تو عیسائیوں نے اپنا مذ ہب ایسا ہی بنایا ہوا ہے۔جہاں حضرت عیسی علیہ السلام یہ کہتے ہیں کہ میں خدا کا بیٹا ہوں وہاں کہتے ہیں بالکل ٹھیک مگر جب وہ کہتے ہیں کہ بھوتوں کے نکالنے کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ روزے رکھے جائیں تو وہ کہہ دیتے ہیں یہ استعارہ ہے۔استعارات کی ضرورت اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب استعارات میں اس قدر خطرے ہیں تو الہامی کتابوں نے اسے استعمال کیوں کیا؟ کیونکہ خرابیاں یا تو استعارہ کو محدود کر دینے سے پیدا ہوتی ہیں یا اسے وسیع کر دینے سے۔اگر استعارہ رکھا ہی نہ جاتا تو اس میں کیا حرج تھا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ استعارہ کی کئی ضرورتیں ہیں۔اول اس کی ضرورت اختصار اور کسی طریق سے نہیں ہو سکتا۔اس طرح لمبے لمبے مضامین بعض دفعہ صرف ایک فقرہ میں آجاتے ہیں۔مثلاً قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ الفاظ آتے ہیں کہ وہ فَالِقُ الْإِصْبَاح کے یعنی ھجوں کا پھاڑنے والا ہے۔اس جگہ اصباح جمع کا لفظ رکھا ہے اور پھر اس کے ساتھ فالق کا لفظ رکھا ہے اور گو بظاہر یہ دولفظ نظر آتے ہیں لیکن اس مضمون کو اگر دیکھیں جو اس میں بیان کیا گیا ہے تو سے تشبیہہ اور استعارہ میں جس قدر اختصار پیدا ہو سکتا ہے وہ