فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 434

فضائل القرآن — Page 365

فصائل القرآن نمبر۔۔۔وارفتگی کا استثنا 365 بے شک بعض دفعہ جذبات کی رو میں بھی انسان ایسے الفاظ منہ سے نکال دیتا ہے جن سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ بھی مجسم ہے مگر وہ ایک عارضی حالت ہوتی ہے جو وارفتگی کے وقت انسان پر وارد ہوتی ہے جیسے مثنوی رومی والے لکھتے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام ایک دفعہ جنگل سے گزر رہے تھے کہ اُنہوں نے ایک گڈریے کو دیکھا جو مزے لے لے کر کہہ رہا تھا کہ خدایا! اگر تو مجھے مل جائے تو میں تجھے بکری کا تازہ تازہ دودھ پلاؤں ، تیری جو میں نکالوں، تجھے مل مل کر نہلاؤں، تیرے پاؤں میں کانٹے کچھ جائیں تو میں نکالوں۔حضرت موسی علیہ السلام نے جب یہ باتیں سنیں تو اُنہوں نے اُسے سونٹا مارا اور کہا نالائق ! تو خدا تعالیٰ کی گستاخی کرتا ہے۔اُسی وقت حضرت موسی علیہ السلام کو الہام ہوا کہ اے موسیٰ ! اس بندے کو تو میری کسی کتاب یا الہام کا پتہ نہ تھا اسے کیا خبر تھی کہ میری کیا شان ہے یہ تو جذبہ محبت میں سرشار ہو کر مجھ سے باتیں کر رہا تھا۔تیرا کیا بگڑتا تھا اگر یہ اسی طرح مجھ سے باتیں کرتا رہتا۔تو دنیا میں ایسے انسان بھی ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کا عام انسانوں پر قیاس کر لیتے ہیں اور جب انہیں محبت کا جوش اُٹھتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اگر خدامل جائے تو ہم اُس کی خدمت کریں حالانکہ خدا تعالٰی خدمت سے بالا ہستی ہے لیکن بہر حال یہ ایک وارفتگی کی کیفیت ہے اور اس سے یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ کہنے والا خدا تعالیٰ کے تجسم کا قائل ہے لیکن بعض پڑھے لکھے ایسے بھی ہوتے ہیں جو الفاظ پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے ظاہری ہاتھ اور اُس کی آنکھ سے ظاہری آنکھ مراد لے لیتے ہیں۔فلسفی مزاج لوگوں کا حدود سے تجاوز اس کے مقابلہ میں بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے اندر محبت کا جوش نہیں ہوتا بلکہ فلسفہ اُن کے اندر جوش مار رہا ہوتا ہے۔وہ جب سنتے ہیں کہ ایک شخص کہتا ہے خدا کی آنکھیں ہیں اور دوسرا کہتا ہے اس سے آنکھیں مراد نہیں بلکہ فلاں چیز مراد ہے یا خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے ظاہری ہاتھ مراد نہیں بلکہ طاقت وقوت مراد ہے تو وہ یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ سارا قرآن ہی استعارہ ہے۔ایسے