فضائل القرآن — Page 328
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 328 قف الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا * وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔اے مومنو! ہم نے دشمن کے اس اعتراض کا جواب دے دیا کہ خدا دعا نہیں سنتا ہے۔ان کو ہم نے بتا دیا ہے کہ وہ دُعائیں سنتا ہے اور ایسے تصرفات کرے گا کہ تم باوجود ساز وسامان کے جیت نہیں سکو گے اور جو تمہارے مقابلہ میں بے سروسامان ہیں وہ جیت جائیں گے مگر تم بھی غلطی نہ کرنا کہ کہ دو ہمیں قانونِ قدرت کی پابندی کی ضرورت نہیں۔وہ قانون بھی میرا ہی بنایا ہوا ہے۔پس اے مومنو! صبر سے کام لینا، جتھہ بندی کرنا، ہر قسم کے سامان تیار رکھنا تا کہ کامیاب ہو جاؤ۔ہاں کبھی خدا تعالیٰ کا منشاء یہ بھی ہوتا ہے کہ قانون قدرت کو بالکل چھوڑ دیا جائے۔جیسے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کھانسی کی تکلیف تھی۔یہ کھانسی اتنی شدید تھی کہ جب اُس کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو ڈاکٹر عبد الحکیم نے پیشگوئی کر دی کہ مرزا صاحب کو سل ہو گئی ہے اور اس بیماری سے فوت ہو جائیں گے۔ادھر پیشگوئی شائع ہوئی اُدھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دوائی پلانے کا کام میرے سپرد تھا اور مجھے کمپونڈری کرنے کے لحاظ سے یہ خیال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو علاج کے متعلق میری ہدایات ماننی چاہئیں۔اُن دنوں ایک دوست آئے جو تحفہ کے طور پر کچھ پھل لائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُس وقت لیے ہوئے تھے اور اس سے تھوڑی ہی دیر پہلے آپ کو کھانسی کا شدید دورہ ہو چکا تھا۔آپ نے دریافت فرمایا کیا پھل ہے؟ میں نے عرض کیا۔کیلے اور سنگترے ہیں اور ساتھ ہی میں نے عرض کیا کہ آپ نہ کھائیں کیونکہ آپ کو شدید کھانسی ہے۔آپ نے پھل اپنے پاس رکھ لئے۔آپ کھاتے جائیں اور مسکراتے جائیں۔میں گڑھنے لگا کہ حضرت مولوی صاحب ( یعنی حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ) کو کیا جواب دوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میری حالت دیکھ کر فرمایا۔تمہیں برا لگتا ہے لیکن مجھے الہام ہوا ہے کہ کھانسی دور ہوگئی ہے۔تو بعض مواقع پر خدا تعالیٰ ایسے اسباب بھی پیدا کر دیتا ہے کہ قانون قدرت کی پابندی کی ضرورت نہیں رہتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق بھی ایسے واقعات پائے جاتے ہیں۔غزوہ حنین میں جب صحابہ کی سواریاں پرک گئیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف ۱۲ آدمی رہ گئے تو انہوں نے عرض کیا کہ آپ ذرا پیچھے ہٹ جائیں کیونکہ دشمن کا شدید حملہ ہے۔جس صحابی نے آپ کی سواری کے جانور کو پکڑا ہوا تھا۔