فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 434

فضائل القرآن — Page 329

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 329 اُسے آپ نے فرمایا چھوڑ دو اور پھر سواری کو ایڑ لگا کر آگے بڑھے اور فرمایا سے انَا النَّبِيُّ لَا كَذِب انَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب اور باوجودیکہ اُس وقت چاروں طرف سے تیر برس رہے تھے مگر آپ کو نہ لگے۔تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے تصرف کے ماتحت جو اسباب پیدا ہوتے ہیں وہ نظر نہیں آتے۔اس جواب میں دُعا والے اعتراض کا جواب بھی آگیا۔یعنی خدا تعالیٰ کے طبعی اور اخلاقی قانون پہلو بہ پہلو چل رہے ہیں۔اس لئے دُعا دونوں کے توازن کے ماتحت اور قانون کے ماتحت ہی قبول ہوتی ہے اور جو اس کے خلاف چاہتا ہے وہ بیوقوف ہے۔بہر حال اخلاقی اور روحانی قانون میں اندھیر نگری نہیں ہے۔تیسری اصولی اصلاح توحید کے متعلق تیسری اصلاح قرآن کریم نے تو حید کے متعلق کی ہے۔اس کے متعلق پہلی خرابی یہ پیدا ہوگئی تھی کہ خدا کے مقابلہ میں اور خدا مقرر کرنے شروع کر دیئے گئے تھے۔یہ خرابی خواہ شرک فی الذات کی صورت میں ہو۔جیسا کہ مسیحیوں، ہندوؤں اور زرتشتیوں میں ہے اور خواہ شرک فی الصفات ہو جیسا کہ یہود میں ہے کہ وہ عزیر کو ابن اللہ کہتے تھے۔ملک صدق سالم کو ازلی ابدی بن ماں باپ کے مانتے تھے۔الیاس اور کئی اور لوگوں کو آسمان پر زندہ تسلیم کرتے تھے۔اسلام نے ان سب شرکوں کو مٹایا ہے اور ایک خالص تو حید قائم کی ہے۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اللہ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيْلٌ لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا بِأَيْتِ اللهِ أُولَبِكَ هُمُ الْخَسِرُونَ 'نا' یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ ہر ایک کام کے لئے کافی ہے۔آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اُس کے ہاتھ میں ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں وہی گھاٹے میں پڑتے ہیں۔اس میں چار دلیلیں ہر قسم کے شرک کے رد میں دی گئی ہیں (۱) فرمایا تمام چیزوں کے دیکھنے سے صاف طور پر نظر آئے گا کہ وہ دو ہستیوں کی پیدا کردہ نہیں بلکہ ایک ہی ہستی کی پیدا کی ہوئی ہیں اور سب کی پیدائش ایک ہی قانون کے ماتحت ہے۔بچہ کو کسی اور نے اور خوراک کو کسی اور نے پیدا