فضائل القرآن — Page 327
فصائل القرآن نمبر ۵ 327 (۲) دوسری دلیل یہ دی ہے کہ الہی تصرف کے بغیر بالکل ممکن ہے بلکہ اغلب ہے کہ روحانی اور اخلاقی قانون ملیا میٹ ہو جائے کیونکہ نبی دنیا میں خدا تعالیٰ کے جلال کے اظہار کے لئے آتا ہے اور دنیا کو کمزور ہونے کے باوجود کھاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا تصرف کیسا کامل ہے۔اس وقت دنیا کلی طور پر قانون قدرت پر چل رہی ہوتی ہے اور اسی وجہ سے ہر قسم کی خرابیاں پورے زور پر ہوتی ہیں۔پس جب قانونِ قدرت کے ذریعہ زیادہ خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں تو خدا تعالیٰ نبی کے ذریعہ قانونِ اخلاق اور قانون روحانیت کو قائم کر دیتا ہے۔جیسا کہ دو گشتی کرنے والوں میں سے جو اپنا ہوتا ہے اُسے غالب کرنے کے لئے سہارا دے دیا جاتا ہے۔اسی طرح جب قانونِ قدرت قانون اخلاق کے خلاف چلنے لگتا ہے اور خرابی پیدا ہو جاتی ہے تو خدا تعالیٰ اپنا کوئی نبی مبعوث کر کے قانون اخلاق کو قائم کر دیتا ہے۔پس اگر دنیا کی پیدائش کی غرض کو پورا کرنا ہے تو ضروری ہے کہ الہی تصرف ہوتا کہ جب رُوحانی اور اخلاقی قانون کو کچلنے کیلئے کوئی زبر دست فرد یا گروہ طبعی قانون سے مدد لے رہا ہو تو وہ اُس کے راستہ کو تبدیل کر دے۔اسی لئے فرمایا کہ انِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أَنْفِى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ ، میں نے دنیا کو روحانی ترقی کے لئے بنایا ہے۔میں اُسے ضائع نہیں ہونے دیتا۔اب مشاہدہ آتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ دعا قبول نہیں ہوتی۔فرمایا ہر ایک دُعا خدا قبول نہیں کرتا لیکن یہ نہیں کہ کوئی دُعا بھی قبول نہیں کرتا اگر خدا کے تصرف کا نمونہ دیکھنا چاہتے ہو تو اس امر سے دیکھو کہ ہم کفار کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَبِهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ۔سامانوں کو دیکھو تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے پاس ہر قسم کے سامان موجود تھے۔قانونِ قدرت پوری طرح اُن کی تائید میں تھا مگر ہمارا قانون اخلاق چونکہ اس سے مقدم ہے اس لئے ہم بتاتے ہیں کہ یہ لوگ جو اپنے لشکروں اور سامانوں سے ڈراتے پھرتے ہیں خدا نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ اِن سامانوں والوں کو ہلاک کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کامیاب کر دے گا۔ہاں فرماتا ہے کہ چونکہ طبعی قانون بھی ہمارا ہے اس لئے اس کا اعزاز بھی قائم رہنا چاہئے اور شرعی اور اخلاقی قانون پر اعتماد کر کے اسے ترک نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی بہتک ہے۔فرماتا ہے۔لیکا ط