فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 434

فضائل القرآن — Page 326

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 326 مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأوَهُمْ جَهَنَّمُ ، وَبِئْسَ الْمِهَادُ۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے تصرف کے کئی دلائل دیئے ہیں۔(۱) پہلی دلیل یہ دی ہے کہ اس دنیا کی پیدائش میں طبعی قانون کا ہی اجراء نہیں بلکہ روحانی اور اخلاقی قانون بھی عمل کر رہا ہے۔تم تو کہتے ہو کہ خدا تعالیٰ کی شان کے یہ خلاف ہے کہ وہ دخل دے مگر ہم ایک اور نکتہ پیش کرتے ہیں اور وہ یہ کہ دیکھو اِس دنیا کو کیوں پیدا کیا گیا ؟ کیا اس لئے کہ انسان کھائے پیئے اور پھر مر جائے۔یہ تو مقصد نہیں۔پھر کیا اس لئے کہ انسان کو اعلیٰ مدارج اور اعلی ترقیات پر پہنچا یا جائے اگر یہ ہے تو معلوم ہوا کہ دنیا کا اصل مقصد قانون طبعی کا اجراء نہیں بلکہ قانونِ اخلاقی کا اجراء ہے۔دنیا کے پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس میں انسان پیدا ہو اور وہ باخدا انسان ہے۔چنانچہ فرمایا۔ان في خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَةٍ لِأُولى الْأَلْبَابِ۔الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِمَّا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ - آسمانوں اور زمین کے بنانے اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے میں عقلمندوں کے لئے بڑے نشانات ہیں۔عظمند وہ ہیں جو خدا کو کھڑے اور بیٹھے اور پہلوؤں پر یاد کرتے ہیں اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں۔تب وہ بے اختیار پکار اُٹھتے ہیں کہ اے خدا! تو نے اس دنیا کو بغیر مقصد کے پیدا نہیں کیا۔اب دیکھو قانونِ طبعی تو ہر ایک کو نظر آتا ہے اس کے متعلق سوچنے اور غور کرنے کی کیا ضرورت ہے مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ سوچتے ہیں اور اس کے بعد یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اس دنیا کو بغیر وجہ کے پیدا نہیں کیا گیا اور پھر وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ! تو ہمیں توفیق دے کہ ہم اس مقصد کے مطابق زندگی بسر کریں۔وہ مقصد کیا ہے یہ کہ رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ۔رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيَّا يُنَادِي لِلْإِيْمَانِ أَنْ امِنُوا بِرَبِّكُمْ فَأَمَنَا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الابرار - یعنی اے خدا! ہمیں وہ اعلیٰ درجہ کی رُوحانی اور اخلاقی ترقیات عطا کر جن کی وجہ سے انسان با خدا ہو جاتا ہے اور ان باتوں سے بچا جن سے انسان خدا سے دُور ہو جاتا ہے۔ہم نے اس کے لئے کوشش شروع کر دی ہے تو توفیق دے کہ ہم اس میں کامیاب ہو جا ئیں۔