فضائل القرآن — Page 325
فصائل القرآن نمبر ۵۰ 325 کا کوئی تصرف نہیں ہوتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اظہارِ حقیقت بھی تو کسی غرض کے لئے ہوتا ہے۔جب خدا تعالیٰ کسی سے کہتا ہے کہ تمہارے ہاں بیٹا ہوگا تو یہ کیوں قبل از وقت بتاتا ہے۔اس کی کوئی غرض ہونی چاہئے۔یا کسی کو بتاتا ہے کہ تم مر جاؤ گے تو اُس کے بتانے کی بھی کوئی حکمت ہونی چاہئے اور وہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ خوشخبری اس لئے دیتا ہے تا انسان اس کے لئے کوشش کرے اور ڈراتا اس لئے ہے تا کہ آنے والی مصیبت سے انسان بیچ سکے ورنہ اگر کوئی پیشگوئی بے مقصد ہو تو وہ فضول ہے اگر خیر کے حصول اور شر سے بچنے کا کوئی ذریعہ ہی نہیں تو پھر بتانے کے معنے ہی کیا ہوئے اور اگر کہو کہ قبل از وقت بتانے کی غرض ہو شیار کرنا ہے تو یہ بھی تو تصرف ہے۔کسی کو بتادینا کہ ایسے اسباب پیدا ہور ہے ہیں تم اُن کے مقابل میں ایسے ایسے اسباب پیدا کر لو۔یہ بھی تو تصرف ہی ہے خواہ بالواسطہ ہی سہی۔یہ تو فلسفیوں کا اعتراض تھا جس کا جواب دیا گیا۔دوسرا اعتراض عملی لوگوں کا ہے وہ کہتے ہیں۔ہم دُعا کرتے ہیں مگر قبول نہیں ہوتی۔ہم نے دعا مانگی کہ بیٹا ہومگر نہ ہوا۔ہم نے مقدمہ جیتنے کی دُعا مانگی مگر نہ جیتے۔قرآن نے اِن سب باتوں کا جواب دیا ہے اور اپنے دعوی کے دو ثبوت دیئے ہیں ایک فلسفیانہ اور ایک مشاہدہ کا۔فرماتا ہے:۔b إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَأَيْتٍ لِأُولى الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَما وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السموتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلًا : سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ - رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيْمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَأَمَنَا ۖ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ رَبَّنَا وَاتِنَا مَا وَعَدُتَّنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيمَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَوْذُوا فِي سَبِيلِي وَقَتَلُوا وَقُتِلُوا لَا كَفَرَنَ عَنْهُمْ سَيّاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الْأَنْهرُ : ثَوَابًا مِنْ عِنْدِ الله وَاللهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ ط