فضائل القرآن — Page 324
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 324 حالانکہ مریم میں بچہ کے پیدا کرنے کی خاصیت پیدا کرنا یا زکریا اور سارہ میں پیدا کرنا بالکل ایک ہی بات تھی۔پس اسباب کا مخفی کرنا بسا اوقات فضل کی بجائے فتنہ پیدا کرتا ہے۔اس لئے اسباب کا پیدا کرنا انسان کے لئے رحم کے طور پر ہے اور لوگوں کو فتنوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ہے۔ہم اس بات کے ہرگز قائل نہیں کہ اللہ تعالیٰ بغیر اسباب کے کچھ کر ہی نہیں سکتا یا جہاں اسباب ہوں وہاں اللہ تعالیٰ کا تصرف نہیں ہوتا بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ دُعاؤں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کرتا ہے کہ جن سے کام ہو جاتا ہے۔پہلے وہ اسباب کسی کو نظر نہیں آتے لیکن دُعا کے نتیجہ میں پیدا ہو جاتے ہیں۔مثلاً تجارت میں ترقی دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کئی اسباب بنائے ہوئے ہیں مگر ہر شخص کو پورے سامان میسر نہیں آتے۔جب دُعا کی جائے تو وہ اسباب مہیا ہو جاتے ہیں اور ایسا انسان ترقی کر جاتا ہے لیکن اگر خدا تعالیٰ یوں ہی کسی کے گھر دس ہزار روپیہ پھینک دے تو فوراً پولیس آکر اُس کو پکڑے کہ کہیں سے چوری کر کے لایا ہے۔پس اسباب کا پیدا کرنا بسا اوقات خود اُس شخص کے لئے مفید ہوتا ہے جس کے لئے وہ تصرف کرتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ مان لیا خدا اسباب پیدا کرتا ہے مگر ایک منکر کو کس طرح منواؤ گے کہ خدا نے اسباب پیدا کئے اور اس طرح اس کا تصرف ظاہر ہوا یا فلاں موقعہ پر عام قانون جاری ہوا اور فلاں موقعہ پر تصرف۔اس کے دو جواب ہیں۔اول یہ کہ جو خدا کا ہو جاتا ہے اس کا ہر فعل ہی تھوڑے یا بہت تصرف میں ہوتا ہے مگر بعض اوقات اپنے خاص تصرف کے ماتحت اللہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کرتا ہے کہ جن میں بندہ پر کوئی اعتراض نہیں آتا اور اُس کی طاقت کا ایک نشان ظاہر ہو جاتا ہے۔جیسے بدر کے موقع پر ہوا۔خدا تعالیٰ نے آندھی چلا دی اور ساتھ ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنکر چلائے۔کفار آندھی کی وجہ سے دیکھ نہ سکتے تھے کیونکہ آندھی کا رُخ اُن کی طرف تھا اور مسلمان خوب زور سے اُن پر حملہ کرتے تھے اس قسم کی مثالوں کے متعلق دشمن کو بھی ماننا پڑتا ہے کہ خاص تصرف ہوا اور جس کی تائید میں ایسا نشان ظاہر ہو اُس پر کوئی الزام بھی نہیں آتا لیکن ایسی مثالیں کبھی کبھی ظاہر ہوتی ہیں اور لمبے زمانہ تک دلیل رہتی ہیں۔پھر خدا تعالیٰ نیا انسان بھیج دیتا ہے اور اس کی تائید میں ایسے نشانات دکھائے جاتے ہیں۔اب رہا یہ اعتراض کہ کیوں نہ سمجھیں کہ پیشگوئیاں صرف اظہارِ حقیقت ہوتی ہیں اُن میں خدا