فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 434

فضائل القرآن — Page 312

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 312 ایمان نہیں لائے۔یہودی کہتے ہیں کہ وہ جہنم میں جائیں گے کیونکہ سوائے یہود کے اور کسی کے لئے نجات نہیں۔زرتشتی کہتے ہیں کہ وہ جہنم میں جائیں گے ہندو بھی یہی کہتے ہیں مر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خدا تعالیٰ کہتا ہے۔کہہ دوان من أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ تم اپنے باپ دادوں کے متعلق مت ڈرو۔اُن کے وقت بھی ہم نے نبی بھیجے تھے اگر انہوں نے اُن انبیاء کو قبول کر لیا تھا تو خدا انہیں جنت میں لے جائے گا۔یہ آباء کے متعلق اُن کو تسلی دی۔ممنون اب یہ وسوسہ باقی رہتا تھا کہ انسان گناہ سے تو بیچ ہی نہیں سکتا۔پھر نجات کیسے ہوگی۔اس کے لئے فرمایا۔یہ وسوسہ بھی دُور کر دو اور ان سے کہو لَقَد خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سَفِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کو تسلی دے کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ انسان کی فطرت گندی ہے وہ جھوٹ بولتا ہے۔ہم نے انسان کو نیک فطرت دے کر بھیجا ہے۔جب انسان خطا کرتا ہے تب ہم اُسے نچلے درجہ میں بھیجتے ہیں۔ورنہ بڑے بڑے انعام دیتے ہیں۔گناہ ایک باہر سے آنے والی چیز ہے۔اصل میں انسان کے اندر نیکی ہی رکھی گئی ہے۔غرض اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب کو تسلی دلائی۔جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمارے لئے نجات کا دروازہ بند ہے انہیں خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل ہونے کی دعوت دی۔جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ہم نیک نہیں ہو سکتے انہیں نیکی کی امید دلائی۔جو لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ ایک دفعہ گناہ کر لیا تو پھر اس کے وبال سے نجات نہیں اُن میں تو بہ کا اعلان کیا۔جو لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ گناہگار مر گئے تو ہمیشہ کے لئے گئے۔انہیں دوزخ کے ایک درمیانی سٹیج ہونے کا علم دیا غرض آپ حقیقی معنوں میں دنیا کو تسلی دلانے والے تھے۔یہ تو دوسروں کے متعلق فرمایا۔اس کے بعد اپنے لوگوں کی باری آئی۔اُن کی تسلی کے لئے خدا تعالیٰ کا یہ ارشاد سنایا کہ خُذ من أمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُظهِرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ، إِنَّ صَلونَكَ سَكَن لَّهُمْ ، وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیم کا فرمایا۔جب وہ رسول دنیا کو تسلی دے گا تو اس کی امت والے ل کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے ہی دن حاصل کر چکے ہیں۔پھر ہمیں کیا ملے گا؟ فرمایا اُن سے مساکین کے لئے چندے لو اور اس طرح ان کو پاک کرو اور اُن کی ترقی مدارج کے لئے دُعائیں کرو کہ جس ط ط