فضائل القرآن — Page 311
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 311 إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ۔" یعنی اے رسول ! تو سب بندوں کو کہہ دے کہ مجھے خدا نے تسلی کو دینے والا بنایا ہے۔اس لئے وہ لوگ جنہوں نے کوئی گناہ کیا ہے۔انہیں خبر دے دے کہ اللہ کی رحمت سے نا امید مت ہو۔تو بہ کرو تو وہ گناہ بخش دے گا۔کیونکہ وہ غفور اور رحیم ہے۔(۲) پھر اُس نے اُن قوموں کی طرف مونہ کیا جو کہتی ہیں کہ جو گناہگار مر گئے۔اُن کے لئے ہمیشہ کا جہنم ہے اور سنایا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے چنانچہ سورہ اعراف : ۱۵۷ میں آتا ہے۔رحمتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ پھر فرمایا۔اُمهُ هَاوِيَةٌ ۷۵ یعنی جہنم ماں کی طرح ہے۔ماں کے پیٹ میں بچہ ہمیشہ نہیں رہتا جب تک ناقص ہوتا ہے پیٹ میں رہتا ہے اور جب کامل ہو جاتا ہے پیٹ سے نکال دیا جاتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔جہنم ماں کی طرح ہے۔جب ان لوگوں کے گند ڈور ہو جائیں گے جن کو اس میں ڈالا جائے گا اور اُن کی صفائی ہو جائے گی تو ہم اُن کو جنت میں بلا لیں گے۔پس دوزخ صرف ایک تکمیل اور علاج کا مقام ہے۔آخر سب خدا تعالیٰ کی بخشش کے نیچے آجائیں گے۔اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان قوموں کو بھی تسلی دی جو یہ مجھتی تھیں کہ گناہگار ہونے کی حالت میں مرنے پر ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنا پڑے گا۔(۳) پھر وہ تو میں جو یہ کہتی تھیں کہ سوائے ہمارے اور کسی کے لئے نجات نہیں اُن کے متعلق بھی خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ لوگوں کو تسلی دے دے کہ یہ غلط خیالات ہیں۔جیسے یہود نے نادانی سے کہہ دیا کہ ہمارے سوا کوئی نجات نہیں پاسکتا اور نسلاً یہ نجات ہمارے حصہ میں آئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ غلط ہے کہ ہدایت کسی ایک قوم سے مخصوص ہے۔نجات ہم نے دینی ہے اور ہمارا دروازہ سب کے لئے کھلا ہے۔چنانچہ فرمایا۔قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ اِلَیكُمْ جَميعًا یعنی تو لوگوں سے کہہ دے کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں۔پس ہدایت کسی ایک قوم سے مخصوص نہیں بلکہ ہر قوم اس میں برابر کی حقدار ہے۔اب انسان کے دل میں ایک اور خوف پیدا ہوتا ہے کہ اچھا آپ آگئے اور آپ کے ذریعہ سب کے لئے نجات کا دروازہ بھی کھل گیا جس کے لئے ہم بڑے ممنون ہیں مگر ہمیں اپنے باپ دادا سے محبت ہے اُن کی کیا حالت ہوگی۔مسیحیت کہتی ہے کہ وہ جہنم میں جائیں گے کیونکہ وہ کفارہ پر