فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 434

فضائل القرآن — Page 313

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 313۔۔۔۔کے لئے تو دُعا کرتا ہے اُس کے لئے تسلی ہی تسلی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی فیصلہ کر دیا ہے کہ تیری دُعا سنے کیونکہ وہ سمیع ہے اور اگر بعد میں آنے والی اُمت کہے کہ ہمارے لئے کیا ہے تو ان سے کہو خدا علیم ہے۔اب بھی تمہارے لئے وہ دُعا موجود ہے اور تم اس سے حصہ لے سکتے ہو۔اس طرح اُن کے لئے بھی تسلی کا سلسلہ جاری کر دیا۔ساتویں بات یہ بتائی گئی تھی کہ وہ رسول دنیا کو تین طرح مجرم قرار دے گا۔(۱) گناہ سے (۲) راستبازی سے (۳) عدالت سے۔یعنی ایک قوم سے کہے گا کہ یہ مسیح کا انکار کرنے والے ہیں۔اس لئے مجرم ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَاءِ يْلَ عَلَى لِسَانِ دَاوَدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ یعنی بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے کفر اختیار کیا اُن پر داؤد اور عیسی بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی تھی۔اسی طرح غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ میں حضرت مسیح کا انکار کرنے والوں کو مغضوب قرار دے کر اُن سے پناہ مانگی گئی ہے۔(۲) راستبازی سے اس طرح مجرم قرار دیا کہ حضرت مسیح کی وفات کے بعد نصاری نے انہیں خدا کا بیٹا قرار دے دیا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ تم نے راستبازی تو اختیار کی یعنی مسیح کو قبول کیا لیکن پھر صحیح راستہ کو چھوڑ کر کہیں کے کہیں نکل گئے۔اس لئے تمہارا نام ضال رکھا گیا ہے۔جیسا کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالين " سے ظاہر ہے۔(۳) باقی قوموں کو آپ نے عدالت سے مجرم قرار دیا یعنی اس وجہ سے کہ وہ شرک کی مرتکب ہو ئیں اور تو حید کو جو عدل کا طریق تھا انہوں نے ترک کر دیا اسی وجہ سے قرآن کریم میں شرک کا نام غیر عدل رکھا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدرِهِ " ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا اس طرح اندازہ نہیں کیا جس طرح کرنا چاہئے تھا۔اسی طرح ایک اور مقام پر فرماتا ہے۔الَّذِينَ امَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَبِكَ لَهُمُ الْآمَن وَهُمْ مُهْتَدُونَ۔وه لوگ جوایمان لائے اور انہوں نے ایمان کو ظلم سے نہیں ملایا۔انہی لوگوں کے لئے امن مقدر ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔احادیث میں آتا ہے کہ صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہر شخص تھوڑا بہت ظلم تو کر بیٹھتا ہے۔آپ نے فرمایا اس جگہ ظلم سے مراد شرک ہے۔