فضائل القرآن — Page 300
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰ 300 الْأَعْرَابِ سَتَدَعَوْنَ إلى قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ ، فَإِنْ تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللهُ أَجْرًا حَسَنًا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا آلتیما 29 یعنی اعراب میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑے گئے ہیں تو اُن سے کہہ دے کہ تم ضرور ایک ایسی قوم سے جنگ کرنے کے لئے بلائے جاؤ گے جوفنون جنگ میں بڑی ماہر ہے اور تم اُن سے اُس وقت تک جنگ جاری رکھو گے جب تک کہ وہ ہتھیار پھینکنے پر مجبور نہ ہو جائیں اور مسلمان نہ ہو جائیں۔پس اگر تم اُس وقت خدا کی آواز پر لبیک کہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو بڑا اچھا اجر دے گا اور اگر تم اس حکم سے روگردانی اختیار کرو گے جس طرح تم نے اس سے پہلے روگردانی کی تھی تو اللہ تعالیٰ تم کو دردناک عذاب دے گا۔اس آیت میں یہ خبر دی گئی تھی کہ اب عرب کی جنگ تو ختم ہوئی اب باہر سے اور قو میں آئیں گی جو ان سے بھی زیادہ لڑنے والی ہونگی اور اُن سے تمہارا مقابلہ ہو گا مگر ان جنگوں کا بھی آخری نتیجہ یہی ہوگا کہ وہ ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہو جائیں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ عرب سے باہر بھی جنگیں ہونی ضروری تھیں۔چنانچہ قیصر و کسری کے ساتھ اسلامی فوجوں کی جنگیں ہوئیں اور خدا تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ بخشا۔دسویں پیشگوئی یہ بیان کی گئی ہے کہ سورج اور چاند اپنے اپنے مکان میں ٹھہر گئے۔تیرے تیروں کی روشنی کے باعث جو اُڑے اور تیرے بھالے کی چھ کا ہٹ کے سبب تو قہر کے ساتھ زمین پر کوچ کرے گا۔تو نے نہایت غصے ہو کر قوموں کو روند ڈالا ہے۔" سورج اور چاند کا ٹھہر جانا یہ محاورہ ہے روحانی اور جسمانی سلسلوں کے نظام کے ٹوٹ جانے کا۔سورج دنیوی اور چاند رُوحانی سلسلوں کا نشان ہے۔جب خبیر فتح ہوا اور حضرت صفیہ کی شادی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوئی تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا مجھے پہلے ہی بتایا گیا تھا کہ میری شادی آپ سے ہوگی۔آپ نے فرمایا۔کس طرح ؟ انہوں نے کہا ئیں نے خواب میں دیکھا تھا کہ چاند میری گود میں آگرا ہے۔اس کا ذکر میں نے اپنے باپ سے کیا تو اُس نے مجھے تھپڑ مارا اور کہا تو عرب کے بادشاہ سے شادی کرنا چاہتی ہے۔کے پس چاند سے مراد مذہبی حکومت ہے اور سورج سے مراد دنیوی حکومت۔مطلب یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ