فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 434

فضائل القرآن — Page 301

فصائل القرآن نمبر ۵ 301 وسلم سے پہلے کے رُوحانی اور جسمانی دونوں نظام ٹوٹ جائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔دونوں سابقہ نظام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد ٹوٹ گئے۔روحانی طور پر سب فیض آپ کے سلسلہ کے بعد بند ہو گئے اور جسمانی طور پر آپ کے اتباع نے سب حکومتوں کو خواہ کسی ملک کی تھیں تباہ کر دیا اور دنیا کا نظام ہی بدل ڈالا۔بائیبل کی اگلی آیت اس کی تفسیر ہے۔گیارہویں پیشگوئی یہ کی گئی ہے کہ " تو اپنی قوم کو رہائی دینے کے لئے ہاں اپنی ممسوح کو رہائی دینے کے لئے نکل چلا۔تو بنیاد کو گردن تک تنگا کر کے شریر کے گھر کے سر کو کچل ڈالتا ہے۔تو نے اُس کے سرداروں میں سے اُسے جو عالی درجہ کا تھا اُسی کے بھالوں سے مارڈالا۔وہ مجھے پراگندہ کرنے کے لئے آندھی کی طرح نکل آئے۔اُن کا فخریہ تھا کہ مسکینوں کو ہم چپکے نگل جائیں۔“ اس میں یہ خبر دی گئی ہے کہ وہ موعود جنگ کے لئے نکلے گا تا کہ اپنی کمزور قوم کو ظالموں سے رہائی دلائے اور اس میں یہ بھی بتایا کہ دشمن بھی جنگ کے لئے نکلے گا کیونکہ لکھا ہے کہ وہ پراگندہ کرنے کے لئے آندھی کی طرح نکل آئے۔گویا ادھر سے یہ اور اُدھر سے وہ نکلیں گے اور دونوں کی مٹھ بھیڑ ہوگی۔دشمن چاہے گا کہ غریب اور کمزور قوم کو دھوکا سے تباہ کر دے مگر وہ خود تباہ ہوگا اور موعود کامیاب ہوگا۔اب دیکھو کتنی تفصیل سے اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات اور بدر کی جنگ کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔مکہ والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلہ کے لئے عتبہ کی کمان میں نکلے۔ابوجہل سیکنڈ اِن کمان تھا۔جب عتبہ مارا گیا۔تو ابو جہل نے کمان سنبھال لی۔غرض مکہ والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ماننے والوں کو تباہ کرنے کے لئے نکلے۔ادھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب اُن کے ارادہ کا علم ہوا تو آپ بھی نکلے تا کہ دشمن مدینہ پر حملہ کر کے مدینہ کو تباہ نہ کر سکے۔قرآن کریم میں اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : - وَمَالَكُمْ لا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا ، وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا اے فرمایا۔اے مسلمانو! اللہ کے رستہ میں لڑائی کرنے میں تمہیں کیا عذر ہو سکتا ہے۔جبکہ کچھ کمزور مرد، عورتیں اور بچے ہم سے دُعائیں کر رہے