فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 434

فضائل القرآن — Page 299

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 299 راستہ میں پڑتا ہے۔قرآن کریم میں اُسے مدین کہا گیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں یہ حکومت قیصر میں شامل تھا اور شام کے صوبہ کے نیچے تھا۔ان دونوں ملکوں پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں حملہ ہوا اور دونوں حکومتوں کو تباہ کر کے اسلامی حکومت قائم کر دی گئی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فتح در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی فتح تھی کیونکہ آپ نے فرمایا قیصر و کسری کے خزانوں کی گنجیاں مجھے دی گئی ہیں اور جنگ احزاب کے موقع کے متعلق روایت آتی ہے کہ ایک پتھر نہیں ٹوٹتا تھا صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آکر عرض کیا کہ ایک پتھر نہیں ٹوٹتا۔آپ تشریف لائے۔فَقَالَ بِسم الله ثُمَّ ضَرَبَ ضَرَبَةً فَكَسَرَ ثَلَثَهَا وَقَالَ اللهُ أَكْبَرُ أعْطِيَتْ مَفَاتِيحَ الشَّامِ وَاللَّهِ إِلَىٰ لَأَبْصَرَ قُصَوْرَهَا الْحُمْرَ السَّاعَةَ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّانِيَةَ فَقَطَعَ الثّلُثَ الْآخِرَ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ أَعْطِيتُ مَفَاتِيحَ فَارِسَ وَاللهِ اِنّى لَا بَصَرَ قَصْرَ الْمَدَائِنِ الْأَبْيَضَ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّالِثَةَ وَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ فَقَطَعَ بَقِيَّةُ الحَجَرِ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ أَعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْيَمَنِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَبْصَرُ أَبْوَابَ صَنْعَاءِ مِنْ مَكَائِي هَذَا السَّاعَةَ " یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ کہہ کر گدال اپنے ہاتھ میں لی اور اُسے زور سے پتھر پر مارا تو اس میں سے آگ کا ایک شعلہ نکلا اور پتھر کا تیسرا حصہ ٹوٹ گیا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور فرمایا اللہ الخبز۔مجھے حکومت شام کی کنجیاں دے دی گئی ہیں اور خدا کی قسم میں اُس کے سُرخ محلات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔پھر دوسری دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گدال کو پتھر پر مارا تو پھر اُس میں سے ایک شعلہ نکلا اور پتھر کا ایک اور حصہ ٹوٹ گیا۔اس پر پھر آپ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور فرمایا اللہ اکبر۔مجھے ایران کی گنجیاں بھی دے دی گئی ہیں اور خدا کی قسم میں مدائن کے سفید محلات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔پھر آپ نے تیسری دفعہ گدال ماری جس سے پھر اُس میں سے ایک شعلہ نکلا اور باقی پتھر بھی ٹوٹ گیا۔اس پر آپ نے پھر نعرہ تکبیر بلند کیا اور فرمایا اللہ اکبر۔مجھے یمن کی کنجیاں بھی دے دی گئی ہیں اور خدا کی قسم میں صنعاء کے دروازے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔غرض حبقوق نبی کی پیشگوئی میں یہ خبر دی گئی تھی کہ آنے والا شام ، عراق اور مدائن کو فتح کر لے گا۔قرآن کریم بھی ان جنگوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے فرماتا ہے: قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ مِن