فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 434

فضائل القرآن — Page 298

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 298 اور آواز میں خدائے رحمان کے لئے دب جائیں گی۔یعنی ادب والی آواز کے سوا تم کوئی اور آواز نہ سنو گے۔مفترین کہتے ہیں ان آیات کا یہ مطلب ہے کہ قیامت کے دن پہاڑ اُڑائے جائیں گے مگر یہاں پہلے قیامت کا ذکر آچکا ہے جس میں بتایا ہے کہ اُس وقت زمین و آسمان نہ رہیں گے اور جب زمین و آسمان نہ رہیں گے تو پھر پہاڑوں کے علیحدہ ذکر کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب یہی ہے کہ جب یہ دعویٰ کیا گیا کہ اسلامی حکومت قائم ہوگی تو اُس کے متعلق سوال کیا گیا کہ یہ اتنی بڑی بڑی موجودہ حکومتیں کہاں جائیں گی۔اس کے جواب میں بتایا کہ تباہ ہو جائیں گی۔پھر يَتَّبِعُونَ الداعی بھی بتاتا ہے کہ یہاں مراد اگلا جہان نہیں کیونکہ مومن تو اس جہان میں بھی ایسے داعی کے پیچھے ہوتے ہیں اور کافروں کے متعلق آتا ہے کہ وہ آخرت میں ساتھ جانا چاہیں گے تو انہیں واپس کر دیا جائے گا اور پھر فرمایا ہے۔مَن كَانَ في هذة أعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا۔کلا کہ جو اس دنیا میں اندھا ہے۔وہاں بھی اندھا ہو گا۔اُس وقت کفار کہاں ایمان لائیں گے وہ تو وہاں بھی گمراہ ہی ہونگے۔پھر داعی کے پیچھے کیونکر چلیں گے۔پس مراد یہی ہے کہ ان حکومتوں کو تباہ کر دیا جائے گا اور جو لوگ اس وقت دشمن ہیں وہ ایمان لے آئیں گے۔چنانچہ جب مکہ فتح ہوا تو سارے دشمن ایمان لے آئے۔پس جبال سے مراد بڑے آدمی اور سردارانِ قوم اور سلاطین ہیں کہ جن کے مارے جانے اور جن کے نظام کو توڑ دیئے جانے پر اسلام کی اشاعت مقدر تھی۔نویں پیشگوئی یہ بیان کی گئی کہ میں نے دیکھا کہ کوشان کے خیموں پر بہت تھی اور زمین مدیان کے پردے کانپ جاتے تھے۔عربی بائیل میں بہت کی جگہ بلیہ یعنی مصیبت لکھا ہے اور پردے کانپ جاتے تھے کی جگہ انگریزی میں Did tremble کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کوشان کیا ہے۔بائیل والے کہتے ہیں کہ کوشان کے معنے کوش میں رہنے والا قبیلہ ہے جو عراق عرب کے ایک علاقہ کا نام ہے۔بائیبل میں یہ بھی لکھا ہے کہ نمرود کے باپ کا نام کوش تھا اور تاریخ سے ثابت ہے کہ کوش قبیلہ کے لوگ چھ سو سال تک عراق پر حکومت کرتے رہے۔مدیان شمالی عرب کا ساحل سمندر کے پاس کا ایک شہر ہے جو مصر سے شام یا عرب کو جاتے ہوئے