فضائل القرآن — Page 288
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 288 النبین ۳۵ محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں تو کسی کے باپ نہیں لیکن روحانی باپ ہیں رسول ہونے کی وجہ سے اور ابدی باپ ہیں خاتم النبیین ہونے کی وجہ سے۔پانچواں نام سلامتی کا شہزادہ بتایا گیا ہے۔عبرانی میں بادشاہ کی جگہ شہزادہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔اس کا اپنے الفاظ میں یہ مطلب ہوا کہ سلامتی کا بادشاہ اور سلامتی اسلام ہے۔اس لئے اصل نام یہ ہوا کہ اسلام کا بادشاہ۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ سَمَّكُمُ الْمُسْلِمِينَ سے یوں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بادشاہ تھے۔فتح مکہ پر مکہ والوں کو آپ نے بلا کر کہا بتا ؤ اب تم سے کیا سلوک کیا جائے تو انہوں نے کہا آپ وہی سلوک کریں جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔اس پر آپ نے فرما یا لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کے جاؤ تم پر کوئی گرفت نہیں۔اس طرح بھی آپ نے سلامتی ہی دکھائی۔پھر چھٹی بات آپ کے متعلق یہ بیان کی گئی ہے کہ داؤد کے تخت پر اور اس کی مملکت پر آج سے ابد تک بند و بست کر دیگا۔یہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے متعلق پیشگوئی ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ شام اور فلسطین پر قبضہ انہیں حاصل ہوگا۔پھر اُسی کتاب میں ہم عرب کی بابت الہامی کلام پڑھتے ہیں کہ عرب کے صحراء میں تم رات کاٹو گے۔اے دوانیوں کے قافلو! پانی لے کے پیاسے کا استقبال کرنے آؤ۔اے تیما کی سرزمین کے باشندو! روٹی لے کے بھاگنے والے کے ملنے کو نکلو کیونکہ وے تلواروں کے سامنے بنگی تلوار اور کھینچی ہوئی کمان سے اور جنگ کی شدت سے بھاگے ہیں کیونکہ خداوند نے مجھ کو یوں فرمایا۔ہنوز ایک برس ہاں مزدور کے سے ٹھیک ایک برس میں قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی اور تیراندازوں کے جو باقی رہے قیدار کے بہادر لوگ گھٹ جائیں گے کہ خداوند اسرائیل کے خدا نے یوں فرمایا ۳۸ اس جگہ یہ پیشگوئی بیان کی کہ جو آنے والا نبی ہوگا جب وہ اپنے وطن سے نکالا جائے گا تو ہجرت کے ایک سال بعد اُس کی قوم اس پر حملہ کرے گی۔ایک رات میدان میں سوئیں گے اور صبح کو جنگ ہوگی جس میں دشمن شکست کھائے گا اور اُس کے بڑے بڑے بہادر مارے جائیں گے یہ