فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 434

فضائل القرآن — Page 289

فصائل القرآن نمبر ۵ 289 پیشگوئی بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں بدر کی جنگ سے پوری ہوئی۔اب دیکھو اس میں کتنی باتیں بیان کی گئیں۔اس میں بتایا گیا ہے کہ (۱) پہلے اس رسول کو مکہ والے اپنے شہر سے نکالیں گے اور (۲) پھر لڑائی کے لئے مکہ والے آئیں گے اگر وہی جس نے یسعیاہ پر یہ کلام نازل کیا تھا دنیا پر قابض نہ تھا اور دنیا اُس کے ہاتھ میں نہ تھی تو اُس نے کیوں اہل مکہ سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ سے نکلوایا اور ایک سال کے بعد کس نے ان کو حملہ کرنے کے لئے نکالا۔(۳) پھر جب انہوں نے حملہ کیا تو اس حملہ میں سارے سردار شامل ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ مکہ کا کوئی گھر ایسا نہ تھا جس کا کوئی نہ کوئی آدمی اس جنگ میں شریک نہ ہوا ہو (۴) پھر اس جنگ میں بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ان باتوں سے ظاہر ہے کہ خیالات پر اور تلواروں پر اُسی کا قبضہ تھا جس نے یسعیاہ کے ذریعہ یہ پیشگوئی کرائی تھی۔مکہ میں اس جنگ کی وجہ سے ایسی تباہی آئی کہ ہر گھر میں ماتم برپا ہو گیا اور اس ڈر سے کہ لوگ دل نہ چھوڑ بیٹھیں اُن کو حکما رونے سے منع کر دیا گیا۔ایک شخص کے تین بیٹے تھے اور وہ تینوں اس جنگ میں مارے گئے۔وہ اندر چھپ چھپ کر روتا تھا مگر اُس کی تسلی نہ ہوتی تھی۔ایک دن ایک شخص کا اونٹ گم ہو گیا اور وہ رونے لگ گیا۔اس شخص نے اُس کے رونے کی آواز گن کر کسی سے کہا دیکھ کیا بین ڈالنے کی اجازت مل گئی ہے اور پھر فورا با ہر نکل کر پیٹنے لگ گیا اور زور زور سے بین ڈالنے لگا۔غرض ہجرت کے عین ایک سال بعد بدر کی جنگ ہوئی اور اُس میں قیدار کے بڑے بڑے جنگ بجو اور بہادر مارے گئے اور شکست کھا کر بھاگے اور تیما جسے عرب تہامہ کہتے ہیں اس میں ماتم بر پا ہو گیا۔پھر یسعیاہ نبی ہی کہتے ہیں :- ”دیکھ میں نے اسے قوموں کے لئے گواہ مقرر کیا بلکہ لوگوں کا ایک پیشوا اور فرمانروا۔دیکھ تو ایک گروہ جسے تو نہیں جانتا بلا وے گا اور وے گرو ہیں تجھے نہیں جانتیں۔خداوند تیرے خدا اور اسرائیل کے قدوس کے لئے جس نے تجھے جلال بخشا تیرے پاس دوڑتی آئیں گی۔۳۹۰۷ اس میں یہ باتیں بتائیں کہ (۱) وہ لوگوں کے لئے گواہ ہوگا۔(۲) لوگوں کے لئے پیشوا اور