فضائل القرآن — Page 287
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰ 287 الرَّسُولَ فَقَدِمُوا بَيْنَ يَدَى نَجْوَبِكُمْ صَدَقَةً ذَلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَظْهَرُ ، فَإِنْ لَّمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ - اے مومنو! تمہاری عادت ہے کہ تم رسول سے مشورے لیا کرتے ہو مگر رسول کا وقت بڑا قیمتی ہے۔تمہیں چاہئے کہ جب مشورہ لوتو مسکینوں کے لئے صدقہ کیا کرو۔یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہوگا اور اگر تم میں سے کوئی صدقہ نہ کر سکے تو اللہ اس کمزوری کو ڈور کرنے والا ہے۔حدیثوں میں آتا ہے بعض اوقات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جارہے ہوتے تو کوئی بڑھیا آپ کو پکڑ کر کھڑی ہو جاتی کہ مجھے آپ سے مشورہ لینا ہے۔مسجد میں بھی لوگ آپ سے مشورہ کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے۔ایک دفعہ ایک شخص اتنی دیر آپ سے باتیں کرتا رہا کہ مسجد میں جولوگ نماز پڑھنے آئے تھے وہ سو گئے۔اسے تیسرا نام خدائے قادر بتایا گیا ہے۔توریت میں خدا کا لفظ مجازی معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ لکھا ہے۔” پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا دیکھ میں نے تجھے فرعون کے لئے خدا سا بنایا ۲ متی باب ۲۱ آیت ۴۰ میں حضرت مسیح مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔جب انگورستان کا مالک آئے گا تو ان باغبانوں کے ساتھ کیا کرے گا۔“ وو گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے کو حضرت مسیح نے خدا کا آنا بتا یا۔اب ہم قرآن کریم میں دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ میں نے تجھے فرعون کے لئے خدا سا بنا یا اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا - ۳۳ یعنی جس طرح ہم نے موسیٰ کو فرعون کے لئے خدا سا بنا کر بھیجا تھا اسی حیثیت سے ہم نے تجھے دنیا کے لئے بھیجا ہے۔چوتھا نام آپ کا ابدیت کا باپ بتایا گیا ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے النَّبِيُّ أولى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أَمَّهُتُهُمْ " یعنی نبی کا تعلق مومنوں کے ساتھ باپوں سے بھی زیادہ ہے اور اُس کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں مائیں ہوئیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باپ ہوئے۔سورۃ احزاب کے پانچویں رکوع میں آتا ہے مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ