فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 434

فضائل القرآن — Page 283

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ ” خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے اُن پر طلوع ہوا۔فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اُس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت اُن کے لئے تھی ،، 283 سینا وہی پہاڑ ہے جسے قرآن شریف میں طور کہا گیا ہے۔اس سے حضرت موسی علیہ السلام کا ظہور مراد ہے۔شعیر سے بعض نے حضرت مسیح مراد لئے ہیں مگر یہ اُن پہاڑوں کا نام بھی ہے جس میں سے گذر کر حضرت موسی آئے اور انہوں نے دشمن پر فتح پائی تھی۔اس لئے یہاں بھی حضرت موسیٰ 66 علیہ السلام مراد ہیں۔“ آگے فرماتا ہے فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا۔“ اس میں بھی دو باتیں بتائی گئی ہیں۔اول یہ کہ وہ فاران کے پہاڑ سے جلوہ گر ہوگا۔دوم یہ کہ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آئے گا۔یہ دونوں باتیں ایک ہی وجود کے متعلق ہیں۔جس طرح پہلی دو بھی ایک ہی کے متعلق ہیں۔پھر بتا یا کہ آتشی شریعت اس کے ساتھ ہوگی۔اس میں یہ خبر ہے کہ وہ فاران کی پہاڑیوں سے جو مکہ کے گرد کے پہاڑ ہیں دس ہزار قدوسیوں سمیت آئے گا اور آتشی شریعت اس کے ہاتھ میں ہوگی۔اس پیشگوئی میں یہ بتایا گیا ہے کہ (۱) وہ نبی مکہ سے نکالا جائے گا کیونکہ پہلے بتایا کہ وہ مکہ میں پیدا ہو گا۔پھر کہا کہ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلے وہ مکہ سے نکالا جائے گا (۲) یہ کہ کچھ عرصہ کے بعد وہ ایک لشکر کے ساتھ مکہ پر حملہ آور ہوگا۔(۳) یہ کہ اس کے ساتھ دس ہزار سپاہی ہونگے۔(۴) یہ کہ وہ لوگ قدوسی ہونگے یعنی ید کی ہم کے مصداق ہونگے۔(۵) یہ کہ اُس کے ساتھ گناہ سوز شریعت ہوگی۔یہ يُعَلِّمُهُمُ الكِتب وَالْحِكْمَةَ کا ترجمہ ہے۔جب انسان کو معلوم ہو کہ فلاں حکم کے ماننے میں میرا فائدہ ہے تو اس پر عمل کرتا ہے۔شریعت کا لفظ الکتب سے اور گناہ سوز کا مفہوم حکمت سے نکلتا ہے کیونکہ حکمت معلوم کرنے کے بعد انسان گناہ کے نزدیک جانے سے احتراز کرتا ہے۔سب لوگ جانتے ہیں کہ اس پیشگوئی میں جس واقعہ کا ذکر ہے وہ پورا ہوا۔فاران کی پہاڑیاں