فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 434

فضائل القرآن — Page 282

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 282 کیسی احمقانہ بات کر رہے ہیں۔کیا میں پانی میں کود کر مر جاؤں۔انہوں نے کہا اُس دن تو تم مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑا کہہ رہے تھے اور آج اتنی بات بھی نہیں مانتے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ تھے کہ آپ کے ماننے والوں نے کبھی نہ کہا کہ ہم مر جائیں گے بلکہ آپ جو کچھ کہتے تھے فوراً اُس پر عمل کرتے خواہ موت سامنے نظر آتی اور خوشی خوشی آپ کے لئے جانیں دے دیتے۔غرض یہ کتنی بڑی بات بتائی کہ وہ ایک دو کی نہیں بلکہ قوم کی قوم کی کایا پلٹ دے گا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس پیشگوئی کے دو ہزار سال بعد مکہ موجود تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل موجود تھی۔ہو سکتا تھا کہ نسل موجود ہوتی مگر انہیں پتہ نہ ہوتا کہ کس کی اولاد ہیں مگر خدا تعالیٰ نے ایسا انتظام کر دیا کہ بائیل میں بھی ذکر کر دیا کہ یہ ابراہیم کی نسل ہے۔اس طرح اُن میں یہ احساس بھی قائم رکھا کہ وہ حضرت ابراہیمؑ کی اولاد ہیں۔پھر ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اس قوم کی کایا پلٹ دی۔حضرت موسی علیہ السلام کی پیشگوئی پھر ہم کچھ اور نیچے آجاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود پھر دنیا کے سامنے لایا جاتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام پر چھ سو سال گذرنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام ظاہر ہوتے ہیں اور وہ آپ کے متعلق خدا تعالیٰ کی یہ بات بتاتے ہیں کہ میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی بر پا کروں گا اور اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا۔کلا اس سے ابراہیمی دُعا کی تصدیق کی گئی۔حضرت اسحاق حضرت اسمعیل کے بھائی تھے اور حضرت موسیٰ حضرت اسحاق کی اولاد سے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسمعیل کی اولاد سے۔گویا ان کے بھائیوں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑا کیا گیا اور اس طرح چھ سو سال کے بعد پھر ابراہیمی وعدہ کا تکرار کیا گیا۔گویا اس میں پھر حضرت اسمعیل کی نسل کے قائم رہنے اور اُن میں سے ایک نبی کے مبعوث ہونے کی خبر دی جاتی ہے۔پھر اُس شخص کے متعلق ایک اور امر بیان کیا جاتا ہے کہ :-