فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 434

فضائل القرآن — Page 284

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰ وو 284 تاریخی طور پر ثابت ہے کہ مکہ کی پہاڑیاں ہیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرما یا کرتے تھے کہ وادی فاطمہ میں ( یہ لگتے اور مدینے کے درمیان ایک پڑاؤ ہے ) گل جذیمہ یعنی پنجہ مریم بیچنے والوں سے پوچھو کہ وہ پھول کہاں سے لاتے ہیں تو لڑکے اور بچے بھی یہی کہیں گے کہ من بَريَّة 19 فاران یعنی دشت فاران سے ! بائیبل میں بھی ایسے حوالے موجود ہیں۔جن سے اشارہ ثابت ہوتا ہے کہ وادی فاران یہی ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام کی پیشگوئی اس کے بعد اور چار سو سال گذرتے ہیں اور حضرت سلیمان علیہ السلام آتے ہیں تو وہ بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف میں گیت گاتے ہیں۔چنانچہ فرماتے ہیں:- ”اے یروشلم کی بیٹیو! ( یعنی بنی اسرائیل) میں تمہیں قسم دیتی ہوں کہ اگر تمہیں میرا محبوب ( مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) مل جائے تو تم اُسے کہیو کہ میں عشق کی بیمار ہوں۔وہ جواب دیتی ہیں :- تیرے محبوب کو دوسرے محبوبوں کی نسبت سے کیا فضیلت ہے۔اے تو جو عورتوں میں جمیلہ ہے تیرے محبوب کو دوسرے محبوب سے کیا فضیلت ہے جو تو ہمیں ایسی قسم دیتی ہے۔۲۱ اس پر وہ فرماتے ہیں:۔میرا محبوب سُرخ و سفید ہے۔دس ہزار آدمیوں کے درمیان وہ جھنڈے کی مانند کھڑا ہوتا ہے۔اُس کا سر ایسا ہے جیسے چوکھا سونا۔اُس کی زلفیں پیچ در پیچ ہیں اور کوے کی سی کالی ہیں۔اس کی آنکھیں اُن کبوتروں کی مانند ہیں جواب دریا دودھ میں نہا کے تمکنت سے بیٹھے ہیں۔اُس کے رُخسار پھولوں کے چمن اور بلسان کی اُبھری ہوئی کیاریوں کی مانند ہیں۔اُس کے لب سوسن ہیں جن سے بہتا ہوا مر ٹیکتا ہے۔اُس کے ہاتھ ایسے ہیں جیسے سونے کی کڑیاں جن میں ترسیس کے جواہر جڑے ہیں۔اس کا پیٹ ہاتھی دانت کا