فضائل القرآن — Page 281
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 281 اوّل اس عرصہ تک کہ اس نبی کی بعثت کی ضرورت پیش آئے مکہ قائم رہے گا۔اب طبعی صورت تو یہ ہے کہ آندھیاں آتی ہیں جو شہروں کے شہر برباد کر دیتی ہیں۔زلزلے آتے ہیں جو بڑے بڑے شہروں کو تو دہ خاک بنا دیتے ہیں مگر یہاں پہلے سے خبر دے دی گئی کہ تمام قسم کے حادثات اس آبادی کو اُجاڑ نہ سکیں گے اور آخر ایسا ہی ہوا۔دوسری بات یہ بتائی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کی نسل ہمیشہ قائم رہے گی کیونکہ کہا یہ گیا کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ۔اس سے معلوم ہوا کہ اس رسول کے آنے تک حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل کی نسل موجود ہوگی۔دنیا کے اکثر گھرانے ایسے ہوتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ تین چار سو سال تک اُن کی نسل چلتی ہے اور پھر مٹ جاتی ہے مگر حضرت ابراہیم اور اسمعیل کے متعلق یہ کہا گیا کہ دو ہزار سال تک یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے تک اُن کی نسل بہر حال قائم رہے گی۔بیماریوں پر یہ پیشگوئی حکومت کرے گی تا کہ وہ اس نسل کو تباہ نہ کرسکیں۔لڑائیوں اور جنگوں پر یہ پیشگوئی حکومت کرے گی تا کہ وہ اس نسل کا خاتمہ نہ کریں۔اسی طرح ہر قسم کے حادثات پر یہ پیشگوئی حکومت کرے گی تا کہ وہ اس نسل کو مٹانہ دیں۔اولاد کی اولاد ہوتی چلی جائے گی اور یہ نسل ہمیشہ قائم رہے گی۔تیسری بات اس سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ ابراہیم کی نسل میں سے ایک رسول آئے گا حالانکہ کوئی شخص دعوی کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ اُس کی نسل میں کس قسم کے انسان پیدا ہونگے۔چوتھی بات یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اس قوم کی کایا پلٹ دے گا اور وہ لوگ ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف منتقل ہو جائیں گے۔کتنے لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو پاک کر سکتے ہیں۔ایک شاگردکو ایک استاد پاک نہیں کر سکتا۔بوعلی سینا کے متعلق مشہور ہے کہ وہ ایک دفعہ اپنے شاگردوں کو ایک کتاب پڑھا رہے تھے۔پڑھتے پڑھتے ایک شاگرد نے کہا کہ آپ تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی بڑھ کر ہیں۔بوعلی سینا مومن آدمی تھے مگر علم النفس کے ماہر تھے۔انہوں نے سمجھا کہ ممکن ہے اِس وقت اگر میں اسے سمجھاؤں تو اس کی سمجھ میں بات نہ آئے اور یہ ضد میں اور گمراہ ہو جائے۔اس لئے چپ رہے لیکن ایک دن جبکہ سردی کا موسم تھا اور تالاب کا پانی سخت سردی سے جما ہوا تھا انہوں نے اُس شاگرد سے کہا کہ کپڑے اُتارو اور تالاب میں کود پڑو۔اُس نے کہا آپ یہ