فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 434

فضائل القرآن — Page 227

227 فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ رڈ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بحیرہ کا مکہ جانا ثابت نہیں اور یہ خیال کہ آپ نے جوانی میں دعویٰ سے بہت پہلے بحیرہ سے قرآن سیکھا ہو عقل کے خلاف ہے۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اس سے مسیحیت کا کچھ علم سیکھا ہو۔و ہیری ان روایتوں سے خوش ہو کر کہتا ہے کہ خواہ ناموں میں اختلاف ہی ہو لیکن یہ روایت اتنی کثرت سے آتی ہے کہ اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس بعض مسیحی اور یہودی آتے تھے اور یہ کہ انہوں نے ان کی گفتگو سے خاص طور پر فائدہ اُٹھایا اور جواب کی کمزوری بتاتی ہے کہ کچھ دال میں کالا کالا ضرور ہے، ورنہ یہ کیا جواب ہوا کہ اس کی زبان انجمی ہے۔ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں بنادیتا ہو اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اسے عربی میں ڈھال لیتے ہوں (وہ اپنے اس خیال کی تصدیق میں آرنلڈ کو بھی پیش کرتا ہے ) اس کے بعد وہ لکھتا ہے :- It is because of this that we do not hesitate to reiterate the old charge of deliberate imposture۔یعنی ہم یہ پرانا الزام دُہراتے ہوئے اپنے دل میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے جان بوجھ کر جھوٹ بنایا۔اُوپر کے مضمون سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کفار مکہ اس اعتراض کو خاص اہمیت دیتے تھے اور ان کے وارث مسیحیوں نے اس اہمیت کو اب تک قائم رکھا ہے۔میں پہلے مسیحیوں کے اعتراضات کو لیتا ہوں اور اس شخص کو جواب میں پیش کرتا ہوں جسے عیسائی خدا کا بیٹا کہتے ہیں۔حضرت مسیح پر یہ اعتراض ہوا تھا کہ ان کے ساتھ شیطان کا تعلق ہے اور دیوؤں کو اس کی مدد سے نکالتے ہیں۔چنانچہ لکھا ہے :- پھر وہ ایک گونگی بدروح کو نکال رہا تھا اور جب وہ بدروح اُتر گئی تو ایسا ہوا کہ گونگا بولا اور لوگوں نے تعجب کیا لیکن ان میں سے بعض نے کہا۔یہ تو بدروحوں کے سردار بعل زبول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہے بعض اور لوگ آزمائش کے لئے اس سے ایک آسمانی نشان طلب کرنے لگے مگر اس نے ان کے خیالوں کو جان کر ان سے کہا کہ جس