فضائل القرآن — Page 226
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ سے اس کا جواب بیان کرتا ہوں۔226 مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ جو کہا گیا ہے کہ اسے بشر سکھاتا ہے۔اس بشر سے مراد جبر ۳۶۶ رومی غلام تھا جو عامر بن حضرمی کا غلام تھا۔اس نے تورات اور انجیل پڑھی ہوئی تھی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگ تکلیف دینے لگے تو آپ اس کے پاس جا کر بیٹھا کرتے تھے۔اس پر لوگوں نے یہ اعتراض کیا۔دوسری روایتوں میں آتا ہے کہ فترا اور زجاج کہتے ہیں کہ حویطب ابن عبد العڑکی کا ایک غلام عائش یا یعیش نامی پہلی کتب پڑھا کرتا تھا۔بعد میں پختہ مسلمان ہو گیا اور رسول کریم ملی پیام کی مجلس میں آتا تھا۔اس کی نسبت لوگ یہ الزام لگاتے تھے۔مقاتل اور ابن جبیر کا قول ہے کہ ابو فکیہ پر لوگ شبہ کرتے تھے ان کا نام لیسار تھا۔مذہبا یہودی تھے اور مکہ کی ایک عورت کے غلام تھے۔بیہقی اور آدم بن ابی ایاس نے عبد اللہ بن مسلم الحضرمی سے روایت لکھی ہے کہ ہمارے دو غلام بیسار اور جبر نامی تھے دونوں نصرانی تھے اور عین التجر کے رہنے والے تھے۔دونوں لوہار تھے اور تلواریں بنا یا کرتے تھے اور کام کرتے ہوئے انجیل پڑھا کرتے تھے۔رسول کریم مسی تم وہاں سے گذرتے تو ان کے پاس ٹھہر جاتے۔ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان میں سے ایک غلام سے لوگوں نے پوچھا۔کہ إِنَّكَ تُعَلَّمُ مُحَمَّدًا فَقَالَ لَاهُوَ يُعَلِّمُنِي - کیا تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو سکھاتے ہو؟ اس نے کہا۔میں نہیں سکھا تا بلکہ وہ مجھے سکھاتا ہے۔ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک انجمی رومی غلام مکہ میں تھا۔اس کا نام بلعام تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اسلام سکھایا کرتے تھے اس پر قریش کہنے لگے کہ یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو سکھاتا ہے۔مسیحی مؤرخ لکھتے ہیں کہ غالبا آپ نے بحیرہ راھب سے سیکھا تھا۔چونکہ مسیحی تاریخوں میں بحیرہ کا کہیں پتہ نہیں ملتا۔اس وجہ سے ابتداء تو وہ اس کے وجود سے ہی منکر تھے لیکن اب مسعودی کی ایک روایت کی وجہ سے وہ اس کو تسلیم کرنے لگے ہیں اور اس اعتراض کے رنگ میں اس سے فائدہ اُٹھانے لگے ہیں۔وہ روایت یہ ہے کہ بحیرہ کو مسیحی لوگ سرگیس (Sergius) کہا کرتے تھے اور Sergius نامی ایک پادری کا پتہ سیحی کتب میں مل جاتا ہے۔پس اب وہ کہتے ہیں کہ اس شخص سے سیکھ کر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تعُوذُ باللہ قرآن بنالیا۔سیل (Sale) اس خیال کو