فضائل القرآن — Page 225
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 225 نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ لِسَانُ الَّذِي يُلْحِدُوْنَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَذَا b لِسَان عَرَب مبین ۳۵ فرمایا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تو مخالفوں سے کہہ دے کہ قرآن کو روح القدس نے اُتارا ہے تیرے رب کی طرف سے ساری سچائیاں اس میں موجود ہیں اور اس لئے اُتارا ہے کہ مومنوں کے دل مضبوط ہوں اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور بشارت ہو اور ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ کہتے ہیں کسی اور نے قرآن سکھایا ہے مگر جس کی طرف وہ یہ بات منسوب کرتے ہیں وہ بجھی ہے ( عجمی وہ ہوتا ہے جو عرب نہ ہو یا عرب تو ہومگر اپنے مافی الضمیر کو اچھی طرح عربی میں بیان نہ کر سکے اور یہ جو کلام ہے یہ تو زبان عربی میں ہے اور وہ بھی معمولی نہیں بلکہ خوب کھول کھول کر بیان کرنے والی۔دوسری جگہ فرماتا ہے۔وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا إِفْكُ إِفْتَرِيهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ أَخَرُونَ فَقَدْ جَاءَ وَظُلْمًا وَزُوْرًا وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا قُلْ انْزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السَّرَ فِي السَّمَوَتِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيما۔" یعنی یہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن خدا کا کلام نہیں ہے بلکہ صرف ایک جھوٹ ہے جو اس نے بنالیا ہے اور اس بنانے میں کچھ اور بھی لوگ اس کی مدد کرتے ہیں۔یہ بات کہنے میں انہوں نے بڑا ظلم کیا ہے اور بڑا افترا باندھا ہے وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الأولين اكتتبقا اور وہ کہتے ہیں کہ اس میں پرانے قصے ہیں جو لکھوا لیتا ہے یعنی دو جماعتیں ہیں ایک مضمون بناتی ہے اور ایک لکھ لکھ کر دیتی ہے۔فَهيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا پھر اس کی مجلس میں اسے خوب پڑھتے ہیں تاکہ یاد ہو جائے قُلْ انْزَلَهُ الَّذِى يَعْلَمُ السّر في السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ کہہ دے اسے خدا نے اُتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کے رازوں کو جاننے والا ہے۔اِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا وہ بڑا بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اس اعتراض میں آج کل عیسائی بھی شامل ہو گئے ہیں اور بڑے بڑے مصنف مزے لے لے کر اسے بیان کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں۔محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کیا پتہ تھا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں میں کیا لکھا ہے۔وہ عیسائی اور یہودی ہی تھے جو باتیں بنا کر ان کو دیتے تھے۔چونکہ اب بھی یہ اعتراض کیا جاتا ہے اور اسے بہت اہمیت دی جاتی ہے اس لئے میں کسی قدر تفصیل