فضائل القرآن — Page 224
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 224 اندرونی جذبات کو ابھارتا ہے۔شہوت اور حسن پرستی کا ذکر کرتا ہے مگر یہ ایسی باتوں کی مذمت کرتا ہے۔چہارم پھر یہ ایسا کلام ہے جو فطرت کے اعلیٰ محاسن کو بیدار کر کے جن کی فطرت صحیح ہوتی ہے ا انہیں بدیوں سے بچاتا ہے اور جو مُردہ ہوتے ہیں ان پر حجت تمام کرتا ہے۔حالانکہ شاعر جذبات بہیمیہ کو ابھارتا ہے۔پس اسے مجازی طور پر بھی شعر نہیں کہہ سکتے۔ساتواں اعتراض ساتواں اعتراض یہ کیا گیا کہ یہ معلم ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔آئی لَهُمُ الذِّكُوى یہ وَقَد جَاءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِينٌ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّمْ تَجَنُونَ ۳۴ فرمایا ان نامعقولوں کو کہاں سے نصیحت حاصل ہو گئی۔حالانکہ ان کے پاس اعلیٰ درجہ کے معارف بیان کرنے والا رسول آیا مگر یہ لوگ اس سے منہ پھیر کر چلے گئے اور کہ دیا کہ اسے کوئی اور سکھا جاتا ہے اور مجنون ہے۔مطلب یہ کہ یہ ایسا نادان ہے کہ لوگ اس کو اس کے باپ دادا کے دین کے خلاف باتیں بتا جاتے ہیں اور یہ آگے ان کو بیان کر دیتا ہے۔بعض لوگ رسول کریم سنی ہیں یہ تم پر اعتراض کرتے تھے اور اب تک کرتے ہیں کہ قرآن نہ آپ پر نازل ہوا نہ آپ نے بنایا بلکہ کوئی اور شخص ان کو سکھا دیتا تھا۔مکہ والے کہتے تھے کہ مکہ کا ہو کر محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کس طرح اپنی قوم کے بتوں کی مذمت کر سکتا ہے۔اور ان کے مقابلہ میں دوسری قوم کے نبیوں کی تعریف کر سکتا ہے اسے کوئی اور اس قسم کی باتیں سکھا جاتا ہے۔جب وہ حضرت موسیٰ کی تعریف قرآن میں سنتے تو کہتے کہ کوئی یہودی سکھا گیا ہے اور جب حضرت عیسی کی تعریف سنتے تو کہتے کوئی عیسائی بتا گیا ہے۔اس میں ان کو اس بات سے بھی تائید مل جاتی ہے کہ قرآن کریم میں پہلے انبیاء کے واقعات بھی بیان ہوئے ہیں۔اس جگہ مجنون حقیقی معنوں میں نہیں آیا بلکہ غصہ کا کلام ہے کیونکہ معلم اور مجنون یکجا نہیں ہو سکتے۔مطلب یہ کہ پاگل ہے، اتنا نہیں سمجھتا کہ لوگ اسے اپنے مذہب اور قوم کے خلاف باتیں سکھاتے ہیں۔قرآن کریم میں دو جگہ بھی یہ ذکر آیا ہے۔سورہ محل رکوع ۱۴ میں ہے۔قُل نَزِّلَهُ رُوح الْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُقَبَّتَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ وَلَقَدْ