فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 434

فضائل القرآن — Page 221

فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 221 آئندہ کی خبریں بتاتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔وَلَا بِقَوْلِ كَاهِن قَلِيلًا ماتذكرون سے لوگ تجھے کا ہن کہتے ہیں حالانکہ تیرا کلام ایسا نہیں مگر یہ لوگ بالکل نصیحت حاصل نہیں کرتے۔یہ عجیب بات ہے کہ قرآن کریم میں جہاں دو جگہ مسحور کا ذکر آیا ہے وہاں دونوں جگہ یہ آیت بھی ساتھ آتی ہے کہ انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا۔اسی طرح کا بہن کا لفظ بھی دو جگہ آیا ہے اور دونوں جگہ ذکر کا لفظ ساتھ ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کا ہن اور مذکر دونوں اضداد میں سے ہیں۔چنانچہ سورہ طور رکوع ۲ میں آتا ہے۔فَذَكَر فَمَا أَنتَ بِنِعْمَتِ رَبَّكَ بِكَاهِنٍ وَلَا مَجْنُونِ سے ان لوگوں کو نصیحت کر کیونکہ تو اپنے رب کے فضل سے نہ کا ہن ہے نہ مجنون۔یعنی کا ہن مذکر نہیں ہو سکتا اور مذکر کا ہن نہیں ہو سکتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کا ہن در حقیقت ارڈ پوپو اس کی قسم کے لوگوں کو کہتے ہیں جو بعض علامتوں وغیرہ سے اخبار غیبیہ بتاتے ہیں۔چونکہ رسول کریم صلی نما یہ تم غیب کی اخبار بتاتے تھے۔بعض نادان آپ کو کا ہن کہہ دیتے تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کی اخبار تو محض اخبار ہوتی ہیں اور اس کی اخبار تذکیر کا پہلو رکھتی ہیں اور اصلاح نفس اور اصلاح قوم سے تعلق رکھتی ہیں تو پھر یہ کا ہن کیونکر ہوا۔کاہنوں کی خبریں تو ایسی ہی ہوتی ہیں جیسے مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کو ایک نے بتائی تھی۔مولوی صاحب نے ایک دفعہ پردہ میں بیٹھ کر ایک ارڈ پو پوکو اپنا ہاتھ دکھایا۔اس نے آپ کو عورت سمجھ کر خاوند کے متعلق باتیں بتانی شروع کر دیں۔جب وہ بہت کچھ بیان کر چکا تو مولوی صاحب نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے اپنی داڑھی اس کے سامنے کر دی۔یہ دیکھ کر وہ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا اور پھر کبھی اس محلہ میں نہیں آیا۔غرض کا ہنوں کی خبریں محض خبریں ہی ہوتی ہیں کہ فلاں کے ہاں بیٹا ہوگا۔فلاں مرجائے گا ان میں خدا تعالیٰ کی قدرت کا اظہار نہیں ہوتا مگر محمد رسول اللہ صلی نما سیم جو خبریں بتاتے ہیں ان کو کاہنوں والی خبریں نہیں کہا جاسکتا۔یہ تو ایمان کو تازہ کرنے والی اور خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کے جلال کو ظاہر کرنے والی ہیں۔رسول کہتا ہے میں خدا کی طرف سے آیا ہوں جو میرا مقابلہ کرے گا وہ ناکام رہے گا اور جو مجھے مان لے گا جیت جائے گا مگر کوئی کا ہن یہ نہیں کہہ سکتا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا