فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 434

فضائل القرآن — Page 222

فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 222 ہے۔وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کا بہن کا قول ہے۔ان کی عقل ایسی ماری گئی ہے کہ اتنی پیشگوئیاں سنتے ہیں جن میں خدا تعالیٰ کی قدرت اور جبروت کا اظہار ہے مگر پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے۔دوسرا رڈ اس کا یہ فرمایا فَلا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ وَمَا لَا تُبْصِرُونَ إِنَّهُ لَقَولُ رَسُوْلِ كَرِيمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ، قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ تَنْزِيلٌ مِنْ رَّبِّ الْعَلَمِينَ۔وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضً الأَقَاوِيْلِ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ الجزين " یعنی ہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں اس کو بھی جسے تم دیکھتے ہو اور اس کو بھی جسے تم نہیں دیکھتے یعنی اس کے ظاہری اور باطنی دونوں حالات اس بات پر شاہد ہیں کہ یہ قرآن ایک عزت والے رسول کا کلام ہے۔ظاہری حالات کے لحاظ سے ایک بات میں کا بہن اور شاعر دونوں مشترک ہوتے ہیں۔شاعر بھی بڑے بڑے جذبات کا اظہار کرتا ہے اور سب کچھ بیان کرنے کے بعد ہاتھ پھیلا دیتا ہے۔اسی طرح کا ہن بھی خبریں بتا کر مانگتا پھرتا ہے۔مگر فرمایا یہ رسول تو ایسا ہے جو اپنے پاس سے خرچ کرتا ہے۔کا ہن تو دوسروں سے مانگتا ہے۔یہاں یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ قرآن کو رسول کریم صلی شانہ کا کلام قرار دیا گیا ہے۔یہاں رسول کہہ کر اس شبہ کو رڈ کر دیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ آپ کا کلام نہیں کیونکہ رسول وہی ہوتا ہے جو دوسرے کا پیغام لائے۔اگر محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی طرف سے بیان کرتا تو آپ کا کلام سمجھا جاتا ہے مگر یہ تو رسول ہے۔تیسری دلیل یہ دی کہ کا ہن تو اپنے اخبار کو اپنے علم کی طرف منسوب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے جفر ، ریل، تیروں اور ہندسوں وغیرہ سے یہ یہ باتیں معلوم کی ہیں۔وہ خدا تعالیٰ کی طرف اپنی خبروں کو منسوب نہیں کرتا مگر یہ رسول کہتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے کلام پا کر سناتا ہوں اور یہ اپنے کلام کو تَنْزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَلَمِيْنَ کہتا ہے۔یہاں یہ بھی بتادیا کہ کا ہن ایسی باتیں بیان کرنے کی وجہ سے اس لئے سزا نہیں پاتا کہ وہ خدا پر تقول نہیں کرتا بلکہ اپنی طرف سے بیان کرتا ہے مگر رسول کہتا ہے کہ خدا کی طرف سے میں بیان