فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 434

فضائل القرآن — Page 179

فصائل القرآن نمبر۔۔۔179 خَلَتْ سُنَّةُ الْآوَلِين الے یعنی ہنسی اور انکار تو پہلے انبیاء کا بھی ہوتا چلا آیا ہے لیکن پہلے انبیاء تو اس کتاب کے متعلق جو اُن پر نازل ہوتی تھی یہ نہیں کہتے تھے کہ وہ ہمیشہ محفوظ رہے گی۔پھر لوگ ان سے کیوں ہنسی کرتے رہے۔ان لوگوں کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ خواہ مخواہ اعتراض کریں ورنہ جو کچھ یہ کہتے ہیں قطعا معقول بات نہیں ہے۔یہ تو صرف جرم کا نتیجہ ہے جو ہر زمانہ میں ظاہر ہوتارہتا ہے۔اب رہا اس کے محفوظ ہونے کا ثبوت۔سو اس کے متعلق فرماتا ہے۔وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوْا فِيْهِ يَعْرُجُوْنَ لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُ كَابَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُوْنَ وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّنَهَا لِلنَّظِرِينَ وَحَفِظْنَهَا مِنْ كُلِ شَيْطَنِ رَّجِيمِ إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُّبِين ٢ فرمایا۔یہ بے وقوف لوگ اپنی نا واقعی سے کہتے ہیں کہ قرآن بھی لفظوں میں لکھی ہوئی کتاب ہے۔جب ایسی ہی اور کتابیں بگڑ گئیں تو یہ کیوں نہیں بگڑ سکتی۔انہیں آسمانی سامان نظر نہیں آتے۔اگر ہم آسمانی دروازوں میں سے ایک بھی ان کے لئے کھولتے اور یہ آسمان پر چڑھ جاتے۔یعنی ان سامانوں سے آگاہ ہوتے جو اس کتاب کی حفاظت کے لئے کئے گئے ہیں تو یہ ایسی بے ہودہ بات نہ کرتے۔ایک راہ بھی اگر انہیں نظر آتی تو حیران رہ جاتے اور کہتے کہ ہماری آنکھیں تو پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں اور ہم کچھ دیکھ نہیں سکتے جو کچھ نظر آرہا ہے یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔پس معلوم ہوا کہ ہم نا بینا ہو گئے ہیں اور یہ خواب ہے یا ہم پر اس شخص نے کوئی جادو کر دیا ہے کہ اس کلام کی پشت پر اس قدر سامان ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک سامان کا ذکر بھی کرتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔ان سامانوں میں سے ایک یہ سامان ہے کہ وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّتُهَا لِلنُّظِرِينَ۔ہم نے اس کلام کے آسمان میں روشن ستارے بنائے ہیں یا یہ کہ ہم نے آسمان میں کچھ ستارے مقدر کر چھوڑے ہیں جو اس کے محافظ ہیں اور ہم نے اس کے آسمان کو ستاروں سے خوبصورت بنایا ہے۔یعنی کثرت سے ستارے ہیں نہ کہ کوئی کوئی۔وَحَفِظنَهَا مِنْ كُلِّ شَيْطَنٍ رَّجِيْمٍ اور ہم نے اس آسمان کو ہر شیطان رجیم سے جو اسے بگاڑنا چاہتا ہے ان ستاروں کے ذریعہ سے محفوظ کر دیا ہے۔پس اب اس کلام کو کوئی شریر چُھو نہیں سکتا۔اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مبین۔ہاں دور سے اس کی باتیں سن کر مطلب بگاڑنے کی کوشش کر سکتا ہے جیسے عیسائی کرتے