فضائل القرآن — Page 178
فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 178 فرماتا ہے اِنّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ہم نے اس کامل ذکر کو اُتارا ہے اور کامل ذکر میں خرابی پیدا ہونے سے چونکہ دنیا تباہ ہوتی ہے اس لئے ہم خود اس کے محافظ ہیں۔نئی چیز تب بنائی جاتی ہے جب پہلی سے اعلیٰ بنائی جائے لیکن قرآن چونکہ کامل ہے اس لئے اس کو توڑنے کی ضرورت ہی نہیں ہو سکتی۔( ii ) دوسری وجہ یہ بیان کی کہ ہم نے خود قرآن کو کمال عطا کیا ہے اور جب ہم نے خود اس کو کمال دیا ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم اپنے دیئے ہوئے کمال کو ضائع ہونے دیں۔حفاظت قرآن کے ذرائع پھر وہ ذریعہ جو اس کے محفوظ رکھنے کا ہے وہ بھی بتایا۔سورۃ حجر میں جب فرمایا کہ تلك ايت الكتب وقُرآنٍ مُّبِيْنٍ 1 یہ کامل کتاب کی آیات ہیں ایسی کتاب کی جو مبین ہے یعنی تمام حقائق کو ظاہر کرنے والی ہے۔تو چونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن کے متعلق یہ فرمایا تھا یہ کامل کتاب ہے اور اس سے یہ مفہوم نکلتا تھا کہ یہ محفوظ رہے گی اس لئے کفار نے اعتراض کیا کہ لَوْ مَا تَأْتِينَا بِالْمَلْئِكَةِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّدِقِينَ " اگر یہ کتاب محفوظ رکھی جائے گی تو پھر اس کے محفوظ رکھنے کے ذرائع کیوں نہیں بتائے گئے۔چاہئے تھا کہ فرشتے اس کے ساتھ اُترتے۔یہ ان کے نقطہ نگاہ سے معقول اعتراض تھا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کا جواب دیا اور فرمایا مَانُنَزِلُ الْمَلْئِكَةَ إِلَّا بِالْحَقِّ وَمَا كَانُوا إِذَا مُنْظَرِینَ کے فرشتے تو پیغامبر ہوتے ہیں یا عذاب کی خبریں لاتے ہیں یا بشارت کی۔فرشتوں کی کیا طاقت ہے کہ وہ خدا کے کلام کی حفاظت کر سکیں۔فرشتوں کو تو کامل علم نہیں ہوتا۔وہ زیادہ سے زیادہ الفاظ کی حفاظت کر سکتے ہیں مطالب کی حفاظت نہیں کر سکتے۔حفاظت تو سوائے ہماری ذات کے اور کوئی کر ہی نہیں سکتا۔سو ہم بتاتے ہیں کہ انا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَا وَإِنَا لَهُ لَحَافِظُونَ ہم اس کی حفاظت کا فیصلہ کر چکے ہیں ہم ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔اب تم اور آئندہ کفار زور لگا کر دیکھ لوتم کچھ نہیں کر سکتے اور آئندہ بھی کوئی کچھ نہیں کر سکے گا۔پھر فرمایا وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِي شِيَعِ الْأَوَّلِينَ وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ۔كَذَلِكَ نَسْلُكُهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ وَقَدْ