فضائل القرآن — Page 180
فصائل القرآن نمبر۔۔۔180 ہیں مگر جو دُور سے سن کر باتیں بنانے والے ہونگے وہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ان کے لئے بھی ہم ایسا شہاب مقرر کر دیں گے جو اُن کی حقیقت کو ظاہر کر دے گا۔یعنی ہم نے ایسے آدمی رکھتے ہیں کہ جب کوئی قرآن کی کسی آیت کا غلط مفہوم بیان کرے گا تو وہ ایک شہاب بن کر اسے تباہ کر دیں گے۔یہ وہ ذریعہ ہے جو قرآن کی حفاظت کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔زیتھا میں بتایا ہے کہ ہم نے روشنی کا جو سامان بنایا ہے وہ ایک آدھ نہیں بلکہ کثرت سے ہے اور مبین میں یہ حقیقت ظاہر کر دی کہ شہاب سے مراد ٹوٹنے والے تارے نہیں۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہی شہاب ہوگا جو قرآن کے مطالب کھول کر بیان کر دے گا۔اس آیت میں بتایا کہ اس آسمان کو کوئی شیطان چھو نہیں سکتا۔دوسری جگہ اس کی تشریح ان الفاظ میں موجود ہے کہ لا يَمَسةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ سے یعنی اس کو وہی لوگ چُھو سکتے جو مطہر اور خادم دین ہوں۔دوسرے لوگ جو گندے ارادوں سے اور بگاڑنے کی نیت سے اس کو چھونا چاہیں نہیں چھو سکتے۔پس یہ قرآن ہی کے متعلق ہے کہ شیطان اُسے چھو نہیں سکتا۔ورنہ آسمان کو اگر شیطان نہیں چھو سکتا تو کیا مومن چھو سکتا ہے؟ مگر اس آسمان کو صرف شیطان نہیں چھو سکتا اور مومن چھو سکتا ہے۔پس یہ قرآن ہی ہے جسے مومن چھو سکتا ہے۔ایک اور جگہ بھی اس کی تشریح آئی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن سن کر جب کچھ جنات واپس گئے تو انہوں نے اپنی قوم سے کہا۔أَنَا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا وَأَنَا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ ، فَمَنْ يَسْتَمِع الْآنَ يَجِدُ لَهُ شهَابًا رَ صَدًا۔ہے یعنی پہلے تو آسمان کو ہم چھو لیا کرتے تھے لیکن اب جو گئے تو دیکھا کہ اس کی حفاظت کے لئے بڑے بڑے پہرہ دار بیٹھے ہیں اور آسمان کو ہم نے شھب سے بھرا ہوا پایا پھر پہلے تو ہم آسمان میں بیٹھ بیٹھ کر باتیں سنا کرتے تھے لیکن اب کوئی سننے کے لئے جاتا ہے تو اُسے پتھر پڑتے ہیں۔اس سے بات بالکل واضح ہو جاتی ہے۔یہ آسمان جو ہمیں نظر آتا ہے یہ تو جو ہے اور ایسی چیز نہیں جس میں کوئی بیٹھ سکے اور اگر فرض کر لو کہ کوئی بیٹھ سکتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تو شیطان آسمان پر بیٹھا کرتے تھے مگر پھر نہ بیٹھے۔حالانکہ حدیث سے