فضائل القرآن — Page 177
فصائل القرآن نمبر۔۔۔177 اب میں چند اور فضیلت کے اصول بیان کر کے بتاتا ہوں کہ قرآن کریم وجہ فضیلت کے لحاظ سے دوسری تمام الہامی اور غیر الہامی تعلیمات سے افضل ہے۔قرآنی فضیلت کی ساتویں وجہ ساتویں وجہ فضیلت کی یہ ہوا کرتی ہے کہ کوئی چیز اپنی جنس کی چیزوں کی نسبت ٹوٹ پھوٹ سے زیادہ محفوظ ہو۔جب ہم کپڑا خریدتے ہیں تو یہ دیکھتے ہیں کہ کونسا کپڑ زیادہ چلے گا۔جو جلد پھٹ جانے والا ہو وہ نہیں لیتے بلکہ جو زیادہ دیر چلنے والا ہو وہ لیتے ہیں۔یہی حال اور چیزوں کا ہوتا ہے۔زیادہ چلنے والی چیز خریدی جاتی ہے اور کم چلنے والی چیز چھوڑ دی جاتی ہے۔تعلیمات کے متعلق بھی یہ سوال لازما ہوتا ہے۔اگر دو تعلیمیں برابر ہوں لیکن ایک بگڑنے سے محفوظ ہو تو اسے یقینا نقدم حاصل ہوگا۔اس اصل کے ماتحت ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں کہ یہ ٹوٹ پھوٹ سے محفوظ ہے یا دوسری کتا ہیں۔الہامی کتابوں میں ٹوٹ پھوٹ نہ ہونے کے کیا معنی ہوتے ہیں یہی کہ الہامی تعلیم بگڑنے سے محفوظ ہو۔اس میں نہ ملاوٹ ہو اور نہ ہو سکتی ہو۔پہلے بتایا گیا تھا کہ دوسری کتابوں میں ملاوٹ ہے لیکن قرآن کریم میں نہیں ہے۔گو جو کچھ بیان ہوا تھا وہ بھی اختصار سے ہوا تھا اور دلائل بھی ساتھ بیان ہونے سے رہ گئے تھے مگر اب میں یہ بتاتا ہوں کہ قرآن ایسا محفوظ ہے کہ اس میں ملاوٹ ہو ہی نہیں سکتی۔ملاوٹ نہ ہو اور نہ ہو سکتی ہو میں بڑا فرق ہے۔قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے جس میں ملاوٹ ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ :۔(۱) قرآن کریم کا دعوی ہے کہ انا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ یعنی ہم نے ہی اس ذکر کو اُتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ رہیں گے۔اب یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جس چیز کی ہر وقت ایک قادر ہستی حفاظت کر رہی ہو وہ ٹوٹ نہیں سکتی۔پھر جس چیز کی حفاظت کا ذمہ غیر محدود طاقت والا لے اس میں کوئی ملاوٹ بھی نہیں ہو سکتی لیکن یہ صرف دعوئی ہے۔میں ابھی اسے دلیل کے طور پر پیش نہیں کر رہا۔اس دعوئی میں بھی قرآن دوسری کتب سے افضل ہے کیونکہ کسی اور کتاب کا یہ دعوی بھی نہیں ہے کہ خدا اس کا محافظ ہے۔نہ انجیل کا نہ تو رات کا نہ وید کا اور نہ کی اور کتاب کا۔قرآن کریم نے اس دعوئی کے ساتھ وجہ بھی بتائی ہے اور وہ یہ کہ (i) یہ کامل ذکر ہے۔خدا تعالیٰ