فضائل القرآن — Page 176
فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ لیتے ہیں اور یہ معنی کرتے ہیں کہ انھے واہ کرو۔تکمیل روحانیت کا زوجیت سے تعلق 176 پھر قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ جنت میں بھی بیویاں ہونگی۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ میاں بیوی کا تعلق اسلام میں روحانیت کی تکمیل کے لئے ضروری ہے ورنہ اُس جگہ بیویوں کی کیا ضرورت ہو سکتی تھی۔وہاں تو اولاد پیدا نہیں ہوئی۔اس سے صاف معلوم ہوا کہ رجولیت اور نسائیت کی اصل غرض تکمیل انسانی ہے اولا دایک ضمنی فائدہ رکھا گیا ہے۔غرض قرآن کریم کا کوئی حکم لے لو خواہ وہ کس قدر ہی ابتدائی امر کے متعلق ہو اس میں بھی اسلام کی تعلیم افضل ہی نظر آئے گی۔نرومادہ کے تعلقات کا مسئلہ کتنا ابتدائی مسئلہ تھا لیکن قرآن کریم نے اسے کتنا علمی بنا دیا۔باقی کتب میں اس کا ذکر بھی نہ ہوگا۔پس ہمارا یہ دعوی نہیں کہ قرآن میں ایسی باتیں ہیں جو اور کسی مذہبی کتاب میں نہیں بلکہ یہ دعوی ہے کہ قرآن کریم کی کوئی ایسی بات نہیں جو دوسرے مذاہب کی الہامی کتابوں سے افضل نہ ہو۔خواہ وہ کھانے پینے کے متعلق ہو خواہ لینے دین کے متعلق ہو خواہ اور معاملات کے متعلق ہو۔اس کے لئے ہم چیلنج دے سکتے ہیں کہ کوئی عیسائی یا ہندو یا کسی اور مذہب کا پیروکھڑا ہو اور کسی مسئلہ کا نام لے کر کہے کہ اسے قرآن سے افضل ثابت کرو تو یقینا ہم اسے افضل ثابت کر دیں گے۔انشاء اللہ تعالی۔پس قرآن کریم بعض باتوں میں ہی افضل نہیں بلکہ ہر بات میں افضل ہے۔حتی کہ قرآن زبان کے لحاظ سے بھی افضل ہے لیکن بوجہ اس کے کہ تفصیلات سے صرف جزئیات کا علم حاصل ہوتا ہے، میں اب اصول کی طرف آتا ہوں۔میں نے پچھلے سال سالانہ جلسہ پر قرآن کریم کی فضیلت کے چھ اصول بتائے تھے اور ثابت کیا تھا کہ ان میں سے ہرامر میں قرآن کریم دوسری کتب سے افضل ہے۔وہ چھ اصول یہ تھے۔اول۔جس کا منبع افضل ہو۔دوم۔ظاہری حسن سوم۔وہ اس غرض کو پورا کرے جس کے لئے اس کی ضرورت سمجھی گئی ہو۔چہارم۔اس کا فائدہ دوسروں سے زائد ہو۔پنجم۔جس میں ملاوٹ نہ ہو۔ششم۔وہ چیز اپنی ہو۔