فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 434

فضائل القرآن — Page 139

فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 139 جو لوگ بڑھتے اور ترقی کرتے ہیں ان میں بڑھنے کی خاص قابلیت ہوتی ہے۔اگر ان سے سارے کا سارا مال لے کر غریبوں اور محتاجوں میں بانٹ دیا جائے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ کمانے کی قابلیت رکھنے والے بھی روپیہ نہ کما سکیں گے اور ملک تباہ ہو جائے گا۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم جسے دولت دیتے ہیں اس قانون کے ماتحت دیتے ہیں کہ اس میں ترقی کرنے کی قابلیت ہوتی ہے۔اور اسی لئے دیتے ہیں کہ وہ ترقی کرے۔چونکہ ایسے لوگوں کا سارے کا سارا مال دے دینا قوم کی تباہی کا موجب ہوسکتا ہے اس لئے ہم اس کی اجازت نہیں دیتے۔وہ لوگ قابلیت رکھتے ہیں انڈسٹری کی۔وہ قابلیت رکھتے ہیں تجارت کی۔وہ قابلیت رکھتے ہیں صنعت و حرفت کی۔اگر ان کا سارے کا سارا مال فقیروں میں بانٹ دیا جائے تو پھر وہ ترقی نہ کر سکیں گے۔غرباء اور مساکین کے پاس تو جو کچھ جائے گا وہ اسے کھا جائیں گے لیکن ایک تاجر کے پاس مال رہتا ہے تو وہ اس سے اور کماتا ہے۔اور نفع میں سے اپنے او پر بھی خرچ کرتا ہے اور غریبوں کو بھی دیتا ہے۔رہی یہ بات کہ پھر بھی ایسے لوگ رہ جاتے ہیں جن کو دیکھ کر رحم آتا ہے تو اس کے متعلق فرمایا إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا هم اپنے بندوں کی حالت کو خوب جانتے ہیں اسی لئے ہم نے ایسا انتظام کیا ہے۔تم ہم سے زیادہ بندوں پر رحم نہیں کر سکتے۔ہم اپنے بندوں کی حالت تم سے زیادہ جانتے ہیں اور ان کی حالت کے مطابق ہم نے قانون بنا دیئے ہیں۔اسی طرح ہاتھ گردن سے باندھنے کا محاورہ بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ اگر بالکل کچھ نہ دیا جائے تو بھی قوم تباہ ہو جاتی ہے۔یعنی اس طرح بھی قوت عملیہ ماری جاتی ہے کیونکہ ایسے محتاج بھی ہو سکتے ہیں جو کام کرنے کی قابلیت بھی رکھتے ہوں ان کو ضرور دینا چاہئے۔پھر جب تک غرباء کو اُٹھایا نہ جائے امراء بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔گویا غرباء کے نہ اُبھارنے کی وجہ سے امراء بھی گر جاتے ہیں۔اور امراء کو مار دینے سے غرباء لاوارث ہو جاتے ہیں۔پس امراء کا رہنا بھی ضروری ہے گو اُن پر غرباء کی مدد کرنا بھی فرض ہے۔اب دیکھو اسلام نے کس طرح خرچ کی مقدار بھی بتادی اور اس کی دلیل بھی دے دی۔