فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 434

فضائل القرآن — Page 140

فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ اسراف اور بخل سے بچنے کی نصیحت 140 دوسری جگہ فرماتا ہے وَالَّذِينَ إِذَا انْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذلِكَ قَوَاماً اس میں بتایا کہ ہمارے بندوں کی درمیانی حالت ہوتی ہے۔جنہیں ہم مال و دولت دیں اُن کا فرض ہے کہ وہ نہ تو اپنی ذات پر ساری کی ساری دولت خرچ کردیں اور نہ ساری دولت لوگوں کو دے دیں بلکہ ان کی درمیانی حالت ہو وہ کچھ لوگوں پر خرچ کریں اور کچھ اپنے اوپر۔اس میں اسلام نے کچھ اپنے او پر خرچ کرنے کی اجازت دی ہے بلکہ بعض دفعہ اپنی ذات پر خرچ نہ کرنا خدا تعالیٰ کے نزدیک گناہ ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بعض لوگ اعتراض کیا کرتے تھے کہ آپ بادام روغن، مشک اور عنبر وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔آپ ان کے جواب میں سید عبد القادر جیلانی کے متعلق بیان فرمایا کرتے تھے کہ وہ ایک ایک ہزار دینار کے کپڑے پہنتے۔گویا ۱۶ ہزار روپیہ کا ان کا صرف ایک سوٹ ہوتا تھا۔اس کے متعلق کسی نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا میری تو یہ حالت ہے کہ میں کبھی کھانا نہیں کھا تا جب تک خدا تعالیٰ مجھے نہیں کہتا کہ اے عبدالقادر! تجھے میری ذات ہی کی قسم تو کھانا کھا اور میں کوئی کپڑا نہیں پہنتا جب تک خدا تعالیٰ مجھے یہ نہیں کہتا کہ اے عبد القادر ! تجھے میری ذات ہی کی قسم تو فلاں کپڑا پہن کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دماغی کام کرتے تھے اور دماغی کام کرنے والے کے لئے جتنی مقویات کی ضرورت ہوتی ہے اتنی کسی اور کے لئے نہیں ہو سکتی۔ایسا انسان اگر اپنے او پر خرچ نہ کرے گا تو وہ گنہگار ہوگا۔ایک دفعہ رسول کریم مسی یا یہ ان جہاد کے لئے گئے۔رمضان کا مہینہ تھا۔کچھ لوگوں نے روزے رکھے ہوئے تھے اور کچھ نے نہ رکھے تھے جنہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا وہ تو منزل پر پہنچ کر لیٹ گئے لیکن جو روزہ سے نہ تھے وہ خیمے لگانے اور دوسرے کام کرنے لگ گئے۔یہ دیکھ کر رسول کریم سلیم نے فرمایا آج روزہ نہ رکھنے والے روزہ رکھنے والوں سے بڑھ گئے۔پس اسلام کہتا ہے جہاں کھانا مفید ہے اور اس سے خدمت دین میں مدد ملتی ہے وہاں اگر کوئی عمدہ کھانا نہ کھائے گا تو گنہ گار ہوگا۔دیکھو رسول کریم مالی یا یہ ہم جب رات کو سوتے تو مختلف محلوں کے لوگوں نے باریاں تقسیم کی ہوئی تھیں، وہ باری باری رات کو آپ کے مکان کا پہرہ دیتے۔اس کے لئے اجازت دینا رسول کریم صلی ہیم کا کام تھا اور صحابہ کا یہ فرض تھا کہ رات کو آپ کی حفاظت کا انتظام کرتے کیونکہ رسول کریم مسی یا یتیم کی ذات پر حملہ ہونا اسلام کو نقصان پہنچانے والا تھا اس لئے کوئی نہیں کہہ