فضائل القرآن — Page 138
فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 138 کیا کرو گے۔جس طرح روزانہ کھانے پینے کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح روحانی اعمال کا حال ہے۔پس جو شخص روزانہ نیکی اور تقویٰ میں حصہ لینا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنے پاس بھی مال رکھے تاکہ بڑھے اور وہ پھر اس میں سے محتاجوں کو دے۔پھر بڑھے اور پھر دے۔یورپ میں ایسے ایسے تاجر موجود ہیں جو ایک کروڑ روپیہ تجارت میں لگا کر کئی کروڑ نفع کماتے ہیں۔اور پھر بڑی بڑی رقمیں خیرات میں دیتے ہیں۔اگر وہ اپنا سارے کا سارا مال ایک ہی دفعہ دے دیتے اور سرمایہ تک بھی پاس نہ رکھتے تو پھر نفع کس طرح کماتے اور کس طرح بار بار بڑی بڑی رقمیں خیراتی کاموں میں دیتے۔پس فرمایا کہ اتنا بھی نہ دو کہ آئندہ سرمایہ پاس نہ رہے اور دوبارہ سرسبز ہونے کے سامان نہ رہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے انگریزوں میں مثل مشہور ہے کہ کسی نے سونے کا انڈا حاصل کرنے کے لئے مرغی مار ڈالی تھی۔کہا جاتا ہے کہ کسی کی مرغی روزانہ ایک سونے کا انڈہ دیتی تھی۔اس نے خیال کیا کہ اگر میں اسے زیادہ کھلاؤں تو ہر روز دو انڈے دے دیا کرے گی۔اس طرح زیادہ کھلانے کی وجہ سے وہ مرغی مرگئی۔پس اگر انسان اس تعلیم پر عمل کرے کہ اپنا سب کچھ ایک ہی دفعہ دے دے تو وہ آئندہ کے لئے محروم ہو جائے گا اور اپنی قابلیتوں سے کام نہ لے سکے گا۔پھر حَسَر کے معنی ننگے ہو جانے کے بھی ہیں۔۱۵ اس لئے مخسُورا کے معنی یہ بھی ہوئے کہ وہ نگا ہو جائے گا۔اور جو نگا ہو وہ چلنے پھرنے سے معذور ہو جاتا ہے اور گھر میں بند ہو کر بیٹھ رہنے پر مجبور ہوتا ہے۔پس فرمایا اگرتم اپنا سارا مال دے دو گے تو پھر تمہیں گھر میں بے کار ہو کر بیٹھنا پڑے گا اور تم کسی کام کے قابل نہ رہو گے۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جب دنیا میں لوگ ہمیں محتاج نظر آتے ہیں تو پھر کیا۔کریں۔کس طرح کچھ حصہ دے کر باقی مال اپنے پاس رکھ لیں؟ اس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے إنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا جب کسی کے پاس دولت آتی ہے تو ہمارے مقررہ قانون کے ماتحت آتی ہے۔ہم اسی کو دولت دیتے ہیں جس میں دولت کمانے کی قابلیت ہوتی ہے۔اگر ایسی قابلیت رکھنے والوں کو ناقابل کر دیا جائے تو دنیا میں تباہی آجائے۔