فضائل القرآن — Page 137
فصائل القرآن نمبر۔۔۔137 گلے سے لگا لینے کو کہتے ہیں) اور نہ مٹھی کو اس طرح کھول کر رکھ دے کہ جس کی مرضی ہو لے جائے۔گویا نہ تو ایسا ہو جیسا کہ انجیل میں کہا گیا ہے کہ سب کچھ دے دو اور نہ اس پر عمل ہو جو یورپ کے فلاسفروں کی تعلیم ہے کہ صدقہ دینے سے لوگوں میں سُستی پیدا ہوتی ہے اس لئے صدقہ دینا ہی نہیں چاہئے۔گویا پادری تو یہ کہتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پاس ہو وہ سب کچھ دے دو گو آپ کچھ بھی نہیں دیتا۔اور فلاسفر کہتے ہیں کہ کچھ بھی نہیں دینا چاہئے۔بہر حال یہ دونوں قسم کی تعلیمیں موجود ہیں۔قرآن ان دونوں کو دیکھتا ہے اور پھر کہتا ہے لا تجعل يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطهَا كُلَّ الْبَسْطِ نہ تو ہاتھ کو سمیٹ کر گلے سے باندھ رکھو۔یہ کہتے ہوئے کہ صدقہ دینے سے لوگوں کی عادتیں خراب ہوتی ہیں۔ان میں سستی پیدا ہوتی ہے ، وہ محنت و مشقت کرنے سے جی چراتے ہیں اور نہ سب کچھ دیدو۔اگر کوئی ایسا کرے گا تو اس کے دو نتائج ہوں گے۔فتقعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُورا۔قرآن کریم کا یہ کمال ہے کہ جو بات کہتا ہے ساتھ اس کے دلیل بھی دیتا ہے۔فرمایا۔اگر تُو صدقہ نہ دے گا اور کہے گا کہ فلاسفر کہتے ہیں صدقہ نہیں دینا چاہئے یہ لوگوں کے لئے نقصان رساں ہوتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورًا تیرا دل اور تیرے بڑے چھوٹے سب مجھے ملامت کریں گے اور کہیں گے کہ تو نے برا کیا۔بھوکے کو کچھ نہ دیا، محتاج کی مددنہ کی ، حاجتمند کی امداد نہ کی۔اس کے بعد دوسری بات یہ بتائی کہ پھر یہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ سب کچھ دے دو حالانکہ انجیل نے کہا تھا کہ سب کچھ دے دینا چاہئے ، اس سے اختلاف کیوں کیا۔اس کی دلیل یہ دی فَتَقعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُورًا حَسَرَ الشَّيءَ کے معنی ہوتے ہیں كَشَفَه " اس نے کھول دیا۔اور حسر الْغُصن کے معنی ہیں قشری سے ٹہنی کے اوپر کا چھلکا اُتار دیا۔گویا درخت کی چھال اُتار دینے کو حشر کہتے ہیں۔اسی طرح حسّر الْبَعِید کے معنی ہیں سَاقَة حَتَّی اغیاد کے اونٹ کو ایسا چلایا کہ وہ تھک کر چلنے کے قابل نہ رہا۔جس طرح درخت کی اُوپر کی موٹی چھال اُتار دینے سے درخت سوکھ جاتا ہے اُسی طرح جانور کو اتنا چلایا جائے کہ اس میں چلنے کی طاقت نہ رہے تو وہ بھی نہیں چلے گا۔پس فرمایا خواہ تم کتنا ہی دو دنیا میں محتاج پھر بھی رہیں گے۔اگر آج تم سارے کا سارا دے کر تھکے ہوئے اُونٹ کی طرح بن جاؤ گے یا چھال اُترے ہوئے درخت کی طرح ہو جاؤ گے تو کل