فضائل القرآن — Page 128
فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 128 کمیٹی قائم کرلیں گے، اس وقت اخبار میں میں اعلان کر دوں گا کہ اس کمپنی کے مال کو فروخت کرنے کی کوشش کی جائے۔اس طرح ایک دو سال میں پتہ لگ جائے گا کہ کس قدر فائدہ ہو سکتا ہے اور اگر ان لوگوں نے کوئی ترقی کی تو وہ ہماری جماعت ہی کی ترقی ہوگی۔تعاون با ہمی کے اصول پر ایک کمپنی قائم کرنے کی تجویز اسی طرح ایک کمپنی تعاون کرنے والی قائم کرنی چاہئے جس میں تاجر، زمیندار اور دوسرے لوگ بھی شامل ہوں۔میں نے اس کے لئے کچھ قواعد تجویز کئے تھے جنہیں قانونی لحاظ سے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے پسند کیا تھا۔اب ان کو شائع کر دیا جائے گا۔یہ اس قسم کی کمپنی ہوگی کہ اس میں شامل ہونے والے ہر ایک ممبر کے لئے ایک رقم مقرر کر دی جائے گی جو ماہوار داخل کراتا رہے۔اس طرح جو روپیہ جمع ہوگا اُس سے رہن با قبضہ جائیداد خریدی جائے گی۔اعلی پیمانہ پر تجارت کرنا چونکہ احمدی نہیں جانتے اس لئے اس میں روپیہ نہیں لگایا جائے گا بلکہ رہن با قبضہ جائیداد خرید لی جائے گی۔جیسا کہ انجمن کے کارکنان کے پراویڈنٹ فنڈ کے متعلق کیا جاتا ہے۔اس طرح جو نفع حاصل ہوگا اس کا نصف یا ٹکٹ اس نمبر کے وارثوں کو دیا جائے گا۔جو فوت ہو جائے اور اس کی جمع کردہ رقم بھی اس کے وارثوں کا حق ہوگی۔میں فی الحال اس سکیم کا مختصر الفاظ میں اعلان کر دینا چاہتا ہوں۔پھر مشورہ کر کے مفصل سکیم اخبار میں شائع کر دی جائے گی۔دوست اس کے لئے تیاری کر رکھیں۔اب میں وہ مضمون شروع کرتا ہوں جسے میں نے اس سال کے لئے منتخب کیا ہے۔کے مضمون کی اہمیت میں نے پچھلے سال کے سالانہ جلسہ پر فضائل قرآن کریم کے متعلق ایک مضمون بیان کیا تھا۔یہ مضمون جس قدر اہمیت رکھتا ہے اس کا اندازہ احباب اس سے لگا سکتے ہیں کہ اسلام کی بنیاد ہی اس امر پر ہے کہ قرآن کریم دنیا کی ساری مذہبی اور الہامی کتابوں سے افضل ہے اگر ایسا نہ ہو تو پھر رسول کریم سنی اسلام کی بعثت کی غرض ہی کچھ نہیں ہو سکتی۔آپ کی بعثت سے پہلے بھی دنیا میں مذاہب