فضائل القرآن — Page 129
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔129 جود تھے اگر آپ ان سے کوئی افضل چیز نہیں لائے تو پھر آپ کے آنے کی ضرورت ہی کیا تھی ! لیکن اگر قرآن کریم کی افضلیت ثابت ہو جائے تو پھر دوسرے مذاہب کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہتی۔ان کی وہی مثال ہو جاتی ہے کہ " آب آمد تیم برخاست۔اگر یہ ثابت ہو جائے کہ قرآن آب کی حیثیت رکھتا ہے تو واضح ہو جائے گا کہ پہلی کتابیں متروک ہو چکی ہیں اور اب صرف قرآن ہی قابل عمل کتاب ہے۔میں نے بتایا تھا کہ اگر ایک ایک چیز کو لے کر ہم فضیلت ثابت کریں تو شبہ رہ سکتا ہے کہ فلاں چیز جس کا ذکر نہیں کیا گیا اس کے لحاظ سے نہ معلوم وہ افضل ہے یا نہیں لیکن اگر اصولی طور پر ہم نہ افضلیت ثابت کر دیں تو ماننا پڑے گا کہ قرآن کریم کلی طور پر تمام کتب الہیہ سے افضل ہے۔میں نے گذشتہ سال کے لیکچر میں قرآن کریم کی افضلیت کے متعلق چھپیں وجوہ بیان کی تھیں۔مگر ان چھبیس میں سے صرف چھ کی رو سے ہی میں نے قرآن کریم کی افضلیت ثابت کی تھی۔اور باقی ہیں میرے ذمہ قرض رہ گئی تھیں بلکہ ان چھ میں سے بھی آخری دو، وقت کی قلت کی وجہ سے نہایت اختصار کے ساتھ بیان ہوئی تھیں اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ آج ان دو کو بھی تفصیل کے ساتھ بیان کر دوں۔حضرت مسیح موعود کے ایک ارادہ کو پورا کرنے کی کوشش یہ مضمون در اصل اُس عہد کا ایفاء ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے براہین احمدیہ میں قرآن کریم کی افضلیت کے متعلق تین سو دلائل پیش کرنے کے بارہ میں فرمایا تھا۔سے اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے براہین احمدیہ کی چوتھی جلد کے آخر میں ہی لکھ دیا تھا کہ : ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی۔پھر بعد اس کے قدرت الہی کی ناگہانی تحلی نے اس احتقر عباد کو موسٹی کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی۔یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پردہ غیب سے ائی آنا ربُّكَ کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی۔