فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 434

فضائل القرآن — Page 127

فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 127 جماعت کی دنیوی ترقی کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ہاں دین کو دنیا پر مقدم کرنا چاہیئے اور جہاں دنیا دین میں روک ثابت ہو وہاں اسے ترک کر دینا چاہئے۔دنیوی ترقی کے لئے بہترین چیز تعاون ہے۔یورپ کے لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا اور ترقی حاصل کر لی لیکن مسلمان آپس میں لڑتے جھگڑتے رہے۔جب سارا یورپ اکٹھا ہوکر مسلمانوں پر حملہ آور ہوا تو مسلمان اس وقت بھی آپس میں لڑ رہے تھے۔اس وقت عیسائیوں سے باطنی حکومت نے یہ سازش کی کہ ہم سلطان صلاح الدین کو قتل کر دیتے ہیں تم باہر سے مسلمانوں پر حملہ کر دو۔اس کا جو نتیجہ ہو وہ ظاہر ہے۔پس تعاون سے جو نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں وہ کسی اور طرح حاصل نہیں ہو سکتے۔اسی طریق سے ہماری جماعت بھی ترقی کر سکتی ہے اور اس کے لئے بہترین صورت تاجروں کے ساتھ تعاون کرنا ہے۔بیشک زمیندار بھی مالدار ہو سکتے ہیں لیکن بڑے بڑے مالدار مل کر بھی غیر ملکوں پر قبضہ نہیں کر سکتے۔اس کے مقابلہ میں تجارت سے غیر ممالک کی دولت پر بھی قبضہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ تجارت دور دور تک پھیل سکتی ہے اس لئے تاجروں کی امداد نہایت ضروری چیز ہے۔اس کے لئے سر دست میری یہ تجویز ہے کہ کوئی ایک چیز لے لی جائے اور اس کے متعلق یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ ہم نے وہ چیز صرف احمدی تاجروں سے ہی خریدنی ہے کسی اور سے نہیں۔اس طرح ایک سال میں اس چیز کی تجارت میں ترقی ہو سکتی ہے اور دوسرے تاجروں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔مثلاً سیالکوٹ کا سپورٹس کا کام ہے۔یہ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ باہر انگلستان، آسٹریا اور جرمنی وغیرہ میں بھی جاتا ہے۔اور یہ ایسی انڈسٹری ہے جس سے دوسرے ملکوں کا روپیہ کھینچا جا سکتا ہے۔سیالکوٹ میں چار پانچ احمدیوں کی فرمیں ہیں۔اس لئے اس سال کے لئے ہم یہ کام اختیار کر سکتے ہیں کہ تمام وہ احمد کی جو صاحب رسوخ ہوں، سکولوں میں ہیڈ ماسٹر یا ماسٹر ہوں، کھیلوں کی کلبوں سے تعلق رکھتے ہوں ، کھیلوں کے سامان کی تجارت کرتے ہوں یا ایسے لوگوں سے راہ و رسم رکھتے ہوں۔وہ یہ مد نظر رکھیں کہ جتنا کھیلوں کا سامان منگوایا جائے وہ سیالکوٹ کی احمدی فرموں سے منگوایا جائے۔میں ان فرموں کے مالکوں سے بھی کہوں گا کہ وہ سارے مل کر ایک مال فروخت کرنے والی کمیٹی بنالیں۔جس کے صرف وہی حصہ دار ہوں جو یہ کاروبار کرتے ہیں تا کہ سب کو حصہ رسدی منافع مل سکے۔اس وقت میں صرف یہ تحریک کرتا ہوں۔جب تاجر ایسی