فضائل القرآن — Page 126
فصائل القرآن نمبر۔۔۔126 رسالوں کے سالنامے نکالنے کا مرض پیدا ہو چکا ہے اس لئے بچے بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔انہوں نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ میں ان کے پرچوں کی خریداری کے متعلق سفارش کروں۔جب یہ رسالے جاری کرنے لگے تھے تو میں نے انہیں کہا تھا کہ اگر سکول اور جامعہ ان کو چلائے تو شوق سے نکالو لیکن اگر کہو کہ جماعت میں ان کے متعلق تحریک کی جائے تو یہ خواہش نہ کرنا لیکن اب چونکہ یہ پٹھان والی بات ہو گئی ہے کہ اس کا بچہ اپنے اُستاد پر تلوار سے وار کر نے لگا۔تو اس نے کہا کہ اس کا پہلا وار ہے کر لینے دو۔اس لئے گو اس سے ہماری ہی جیبوں پر اثر پڑتا ہے لیکن چونکہ یہ ہمارے بچوں کا پہلا وار ہے اس لئے میں یہ سفارش کرتا ہوں کہ ان کے رسالے خریدے جائیں۔ایک تو اس لئے کہ یہ لڑ کے پہلے وار کی وجہ سے اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے وار کی قدر کی جائے۔دوسرے انہوں نے ایک رنگ میں احسان بھی جتایا ہے۔وہ کہتے ہیں۔ہم جلسہ کے کاموں میں لگے رہے اور رسالے نہ بیچ سکے۔اب تو گویا ایک وجہ بھی ان کے ہاتھ آگئی ہے۔دوست ان کے رسالے خرید کر ان کی حوصلہ افزائی کریں۔اب میں ان باتوں میں سے دو چار اختصار کے ساتھ بیان کرتا ہوں جو کل بیان کی تھیں۔احمدی تاجروں کے ساتھ ہر رنگ میں تعاون کی ضرورت میں نے بیان کیا تھا کہ مومن کے لئے دینی اور دنیوی طور پر ہر قسم کی آگ سے بچنا نہایت ضروری ہے لیکن چونکہ وقت کم تھا میں نے اس آگ سے بچنے کے صرف اصول بیان کر دیئے تھے تفصیل چھوڑ دی تھی۔اب میں ان میں سے ایک بات کی طرف جماعت کو خاص طور پر توجہ دلانا چاہتا ہوں۔دنیا میں بہت سے کام جو انفرادی طور پر نہیں ہو سکتے باہمی تعاون سے ہو سکتے ہیں۔ہم نے دنیا میں جو عظیم الشان کام کرنے ہیں ان کے متعلق جب تک ہم ہر رنگ میں جماعت کی نگرانی نہ کریں وہ صحیح طور پر سر انجام نہیں دیئے جا سکتے۔رسول کریم صلی نے یہ تم نے ان قیدیوں کا جو جنگ بدر میں گرفتار ہو کر آئے تھے یہ فدیہ مقرر فرمایا تھا کہ مسلمانوں کے بچوں کو تعلیم دیں۔وہ لوگ کوئی دینی تعلیم نہ دے سکتے تھے بلکہ صرف مروّجہ علوم ہی سکھا سکتے تھے مگر رسول کریم سا ہی تم نے اس کا بھی انتظام فرمایا۔اور دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم بھی ضروری سمجھی۔ہمیں بھی دین کے ساتھ