فضائل القرآن — Page 100
100 فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ جذب کر لیتا ہے یعنی مورد الہام ہو جاتا ہے۔پس یہ کہنا کہ کامل اور مصفی دماغ آپ ہی تعلیم کو معلوم کرے گا درست نہیں۔اگر وہ کامل ہے تو الہام خود بخود اس پر نازل ہوگا۔اور اگر وہ ناقص ہے تو پھر تعلیم بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔جس غرض اس آیت میں روحانی طاقتوں اور ان کے ارتقاء کے مسئلہ پر سیر گن بحث کی گئی ہے۔پر عقل اور مشاہدہ دونوں شاہد ہیں۔اور یہ بحث دنیا کی اور کسی کتاب میں نہیں مل سکتی۔آگے بتایا کہ یہ نور کہاں ہے؟ فرماتا ہے۔في بُيُوتٍ أَذِنَ اللهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُةِ وَالْأَصَالِ " یہ نور ایسے گھروں میں ہے جن کے متعلق خدا تعالی کی طرف سے یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ انہیں اونچا کیا جائے گا اور حکومت دی جائے گی۔گویا نور سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کے متعلق یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ انہیں دنیا کا بادشاہ بنادیا جائے گا۔پس بے شک انسانی فطرت میں بھی نور ہے اور وہ خدا کے نور کے مشابہ ہے مگر قاعدہ یہ ہے کہ جب ایک فطرت چلا پا جائے یعنی اس قدر مکمل ہو جائے کہ الہام پانے کی طاقت اس میں پیدا ہو جائے تو آسمان سے الہام اس پر نازل ہوتا ہے گویا انسانی فطرت صحیحہ الہام کے بغیر رہ ہی نہیں سکتی۔جب فطرت کامل ہو جائے تو ضرور ہے کہ الہام نازل ہو۔لیکن اگر الہام نازل نہیں ہوتا تو فطرت کامل نہیں ہوگی۔پس بغیر الہام الہی کے کام نہیں کیا جاسکتا۔روحانی طاقتوں کی تکمیل کے لئے کامل تعلیم (۳) تیسری چیز جس کا بیان کرنا ایک مذہب کے لئے نہایت ضروری ہے۔وہ ان امور کا بیان کرنا ہے جو روحانی طاقتوں کی تکمیل اور ان کی امداد کے لئے ضروری ہیں۔یہ مضمون ایسا وسیع ہے کہ اس میں شریعت کے تمام احکام آسکتے ہیں۔اور مذہب کے تمام اصول اور جزئیات پر بھی اس میں بحث ہو سکتی ہے کیونکہ ان کی غرض یہی ہوتی ہے کہ روحانی طاقتوں کا ارتقاء ہو۔لیکن چونکہ اس لیکچر کے یہ مناسب حال نہیں اس لئے میں اختصاراً اس کے متعلق صرف ایک ریویو کر دیتا ہوں کہ اسلام چونکہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ (۱) روح انسانی جسمانی تغیرات کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور اس وجہ سے