فضائل القرآن — Page 99
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ قریب ہو تو دوسری خود بخود قریب ہونے لگتی ہے۔الہام ہو تو فطرت ابھر نے لگتی ہے جیسا کہ سورۃ انعام میں بطور کلام الہی کی تمثیل کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاء مَاء فَأَخْرَجْنَا بِهِ نَبَات كُلّ شَینی اش یعنی الہی کلام کی مثال پانی کی طرح ہے۔جس طرح پانی نازل ہونے سے سبزیاں اُگنے لگتی ہیں اسی طرح کلام الہی کے نازل ہونے سے ہر قسم کی قابلیتوں میں اُبھار شروع ہو جاتا ہے اور وہ اپنے اپنے جو ہر کو ظاہر کرنے لگتی ہیں۔اسی طرح فطرت کے اُبھر نے سے بھی کلام الہیہ صیح آتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحُ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّاشَرَقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِقَ : وَلَوْلَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُورٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِى اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ وَ يَضْرِبُ اللهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحُ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَانَهَا گو گب در می اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں لیمپ ہو اور لیمپ چمکدار گلوب میں ہو جو ستارہ کی طرح چمکے۔جس کی وجہ سے اس کی روشنی کا فوکس فائدہ اُٹھانے والوں پر پڑ رہا ہو۔يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبَرَكَةٍ زَيْتُونَةٍ اور اس میں اعلیٰ درجہ کا مصفی تیل زیتون کے مبارک شجر کا ہو۔لا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ اور وہ شجر ایسا ہو جو نہ شرقی ہو نہ غربی۔يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِى وَلَوْلَمْ تَمْسَسْهُ نَار۔ایسا تیل اپنی اعلیٰ درجہ کی صفائی کی وجہ سے قریب ہو کہ بغیر آگ کے آپ ہی آپ روشن ہو جائے۔نُورٌ عَلی نُورٍ اس لئے کہ جب اس تیل یعنی فطرت صحیحہ میں ایسی چلا پیدا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کا نور جو اس فطرتی نور کو روشن کر دینے کی وجہ سے نار سے مشابہ بھی ہے نازل ہو جاتا ہے اور آسمانی نور زمینی نور سے آکر مل جاتا ہے۔اب دیکھو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کس طرح کھول کر بیان فرما دیا ہے کہ فطرت کا نور جب کامل چلا پا جائے اور ایسا مصفی ہو جائے کہ گویا خود ہی جل اُٹھنے والا ہو تو اس وقت وہ آسمانی نور کو 99